غزہ میں جنگ بندی کے بعد ہزاروں بچے غذائی قلت کے باعث بیمار پڑنے لگے،یونیسف کو تشویش

تقریباً 9,300 بچے غذائی قلت کے باعث اسپتالوں میں داخل
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے انتباہ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد سے ہزاروں بچے شدید غذائی قلت کی وجہ سے ہسپتالوں میں داخل ہو چکے ہیں اور یہ صورتحال بدستور جاری ہے ۔
یونیسیف کا کہنا ہے کہ رواں برس اکتوبر کے مہینے میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد اب تک تقریباً 9,300 بچے غذائی قلت کے باعث اسپتالوں میں داخل کیے گئے جو کہ تشویش ناک حد تک زیادہ ہے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ متعدد وعدوں کے باوجود غزہ کے لیے امداد کی فراہمی ناکافی رہی ہے۔
ادارے کی ترجمان ٹیس انگرام نے جنیوا میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ فروری کے مقابلے میں اسپتال میں داخل بچوں کی تعداد پانچ گنا زیادہ ہو گئی ہے۔ان کے اعداد و شمار کے مطابق پیدائش کے پہلے دن ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2022 میں ہر ماہ اوسطاً 27 بچے غذائی قلت سے ہلاک ہوتے تھے، جو جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران بڑھ کر 47 ماہانہ ہو گئی۔
انگرام نے کہا کہ پیدائش کے وقت بچوں کا کم وزن زیادہ تر ماں میں غذائیت کی کمی، بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور قبل از پیدائش دیکھ بھال کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یونیسیف کے مطابق غزہ میں یہ تینوں عوامل موجود ہیں اور امدادی اقدامات تیز یا مؤثر نہیں کیے جا رہے، جس سے نہ صرف غذائی قلت بلکہ پیدائشی امراض میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
