روس -یوکرین جنگ کب ختم ہوگی؟ ٹرمپ کیا کہتے ہیں؟

امن کی منزل ابھی بہت!!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات کا راستہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے نمائندوں کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ہونے والی ملاقات کافی حد تک اچھی تھی، لیکن اس کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے ماسکو میں پوٹن سے طویل ملاقات کی، مگر یوکرین کے زیرِ قبضہ علاقوں اور دیگر اہم معاملات پر دونوں جانب سے کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔ روس نے ملاقات کے بعد کہا کہ امریکی تجاویز میں سے کچھ ان کے لیے ناقابلِ قبول تھیں۔
ادھر یوکرین اور امریکہ نے اپنے اپنے مؤقف پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی وفد نے اس سے قبل فلوریڈا میں یوکرین کے اعلیٰ مذاکرات کار رسٹم عمروف سے ملاقات کی تھی، جہاں سیکیورٹی یقین دہانیوں اور مستقبل کے تعاون پر گفتگو ہوئی۔
اس کے بعد امریکی سفارتی ٹیم ماسکو پہنچی تھی، اس امید کے ساتھ کہ اہم اختلافی نکات پر کوئی درمیانی راستہ نکل آئے گا، لیکن فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
سب سے بڑا تنازع وہ علاقے ہیں جن پر روس نے قبضہ کر رکھا ہے۔ روس ان خطوں پر کنٹرول برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے جبکہ یوکرین اور اس کے اتحادی اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے جنگی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے یہ شبہ بڑھ جاتا ہے کہ وہ واقعی امن کا خواہاں ہے یا نہیں۔
ان تمام کوششوں کے باوجود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امن کی منزل ابھی بہت دور دکھائی دیتی ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ جنگ کب ختم ہوگی یا کوئی معاہدہ کب تک طے پا سکے گا۔
