توشہ خانہ ٹو میں سزائیں، عمران خان اور بشریٰ بی بی پر کیا الزامات تھے؟

کیس میں کب کیا ہوا؟
توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے، یہ فیصلہ اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں سنایا، اس وقت عمران خان اور بشریٰ بی بی بھی موجود تھے۔
توشہ خانہ ٹو کیس میں کب کیا ہوا؟
توشہ خانہ ٹو کیس کی 80 سے زائد سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوئیں، سرکار کی جانب سے وفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی، بیرسٹر عمیر مجید ملک، بلال بٹ اور شاہویز گیلانی نے کیس کی پیروی کی۔ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا کیس ان کے وکیل ارشد تبریز،قوثین فیصل مفتی اور بیرسٹر سلمان صفدر نے لڑا۔
اس سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی پر12 دسمبر 2024 کو توشہ خانہ ٹو کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، نیب میں 6 سماعتیں ہوئیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس ایف آئی اے کو ٹرانسفر ہوگیا۔
سات جنوری 2024 کو انکوائری شروع ہوئی،12 جولائی 2024 کو نیب انکوائری مکمل ہوئی،13 جولائی 2024 کو بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو گرفتار کر لیا گیا، ریفرنس 20 اگست 2024 کو دائر ہوا، 6 ستمبر 2024 کو نیب ترامیم کیس کی رٹ سپریم کورٹ میں کی گئی ۔
9 ستمبر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کیس ایف آئی اے کو منتقل ہوا،10 ستمبر 2024 کو کیس ڈیوٹی جج کے پاس سماعت ہوا، نیب ترامیم بحالی کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس میں سے ایف اے کو منتقل ہوا،11 ستمبر 2024 کو ریکارڈ پیش کیا گیا،16 ستمبر کو سپیشل جج سنٹرل کی عدالت میں پہلی پیشی ہوئی۔
18 ستمبر 2024 کو پہلے گواہ پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 23 اکتوبر 2024 کو ملزمان بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سیکشن 4 اے کے تحت ضمانت منظور کر لی۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزامات
بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انہوں نے2021 میں سعودی ولی عہد سے بلگاری جیولری سیٹ وصول کیا، ایف آئی اے رکارڈ کےمطابق جیولری سیٹ کی کل مالیت ساٹھے 7 کروڑ 15سے زائد تھی۔
جیولری سیٹ کا ریکارڈ وزارت خارجہ سے بھی حاصل کیا گیا، ملزمان نے پرائیویٹ فرم سے بلغاری سیٹ کی قیمت صرف 59 لاکھ روپے لگوائی، جیولری سیٹ میں، نیکلیس، بریسلیٹ، انگوٹھی اور ائیر رنگز شامل تھیں۔
ملزمان کی جانب سے سعودی ولی عہد سے وصول کیا گیا تحفہ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا۔ قیمت کا تعین پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس اور پھر کسٹم حکام کے ذریعے کیا گیا۔ انڈر ویلیو تخمینہ حاصل کرنے کیلئے اثرو رسوخ استعمال کیا گیا، بلغاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع کرایا گیا نا ہی صحیح قیمت لگائی گئی۔
پرائیویٹ اپریزر صہیب عباس کے مطابق درخواست گزار کے پرائیویٹ سیکرٹری انعام شاہ نے کم تشخیص کیلئے دباؤ ڈالا۔
