سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
مصنوعی ذہانت عالمی اثر و رسوخ میں جوہری طاقت کے برابر ہوگی
StaffStaff Reporter
Nov 25, 2025

مصنوعی ذہانت (AI) ان ممالک کو جو اس کی ترقی میں سبقت حاصل کر لیں گے، وہ اثر و رسوخ عطا کرے گی جو جوہری طاقت کے برابر ہوگا۔ یہ بات روس کے سبربینک کے فرسٹ ڈپٹی سی ای او، الیگزینڈر ویڈیخن نے ماسکو میں منعقدہ AI جرنی کانفرنس میں کہی۔
ویڈیخن نے AI کو ایک انقلابی قوت قرار دیا، جس کا موازنہ بیسویں صدی میں جوہری طاقت کے ظہور سے کیا۔ انہوں نے کہا: "ایک نیا جوہری کلب تشکیل پا رہا ہے، لیکن اس بار یہ قومی لسانی ماڈلز (LLMs) پر مبنی ہے۔ یا تو آپ کے پاس اپنا ماڈل ہے، یا نہیں۔" ان کے مطابق AI میں تکنیکی خودمختاری اب ایک انتخاب نہیں بلکہ قومی سلامتی، ڈیٹا کنٹرول اور عالمی حیثیت کا معاملہ بن چکی ہے۔
سبربینک، جو کبھی ایک روایتی مالیاتی ادارہ تھا، اب ایک ٹیکنالوجی گروپ میں تبدیل ہو چکا ہے جو AI پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ ویڈیخن نے بتایا کہ روس ان سات ممالک میں شامل ہے جن کے پاس اپنا تیار کردہ AI ماڈل موجود ہے، اور یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک اپنی AI انفراسٹرکچر تیار نہیں کریں گے، وہ غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے ان کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ویڈیخن نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ AI تحقیق، انفراسٹرکچر اور تعلیم میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں تاکہ مستقبل کے عالمی نظام میں اپنی جگہ محفوظ بنا سکیں۔
ان کے خیالات اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح ڈیجیٹل صلاحیتیں روایتی عسکری طاقتوں کے برابر اثر ڈالنے والی بن رہی ہیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
