میرے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے: آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کا ریٹائرمنٹ کا اعلان، کس سے شکوہ؟

اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں جذباتی ہوگئے
آسٹریلیا کے ٹیسٹ کرکٹر عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ وہ ایشیز سیریز کے دوران سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ہونے والے پنک ٹیسٹ کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے۔
39 سالہ عثمان خواجہ نے 2011 میں ڈیبیو کیا اور 15 سالہ کیریئر میں 6 ہزار سے زائد رنز بنائے۔ وہ اپنا 88واں ٹیسٹ کھیل کر ریٹائر ہوں گے۔ عثمان آسٹریلیا کے پہلے پاکستانی نژاد اور پہلے مسلمان ٹیسٹ کرکٹر ہیں۔
2023 میں انہیں آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر اور شین وارن ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر کا اعزاز ملا۔ وہ اسی سال آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بھی تھے۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق عثمان نے کرکٹ کے میدان سے باہر بھی اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے نمایاں خدمات انجام دیں اور ایک مثبت میراث قائم کی۔
جمعرات کو اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹوں کے ہمراہ جذباتی پریس کانفرنس میں عثمان خواجہ نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ سے ایک روز قبل جب وہ گالف کھیلنے گئے اور اس کے بعد اُنھیں کمر میں تکلیف ہوئی تو ’مجھ پر تنقید کی گئی۔ کیونکہ میرے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے میڈیا اور سابق کھلاڑیوں نے مجھ پر حملہ کیا، ’وہ بہت افسوسناک تھا۔‘
عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ ’ایشز کے لیے میری تیاری پر سوال اُٹھائے گئے۔ مجھے کہا گیا کہ میں ٹیم کے لیے سنجیدہ نہیں ہوں۔ اس نے ٹیسٹ میچ سے ایک دن پہلے گالف کھیلی، یہ خود غرضی ہے۔ وہ سخت ٹریننگ سے کتراتا ہے۔ اس نے کھیل سے ایک دن پہلے ٹریننگ نہیں کی۔ وہ سست ہے۔‘
’یہ وہی دقیانوسی اور نسلی تصورات ہیں، جن کے ساتھ میں اپنی زندگی میں بڑا ہوا ہوں۔ میں نے سوچا تھا کہ میڈیا اور سابق کھلاڑی اس سے آگے بڑھ چکے ہیں، لیکن ہم اب بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکے۔‘
عثمان خواجہ نے میڈیا سے مخاطب ہوکر مزید کہا کہ ’میں آپ کو ان گنت لڑکوں کی تعداد بتا سکتا ہوں، جنھوں نے ایک دن پہلے گالف کھیلی، اُنھیں انجری ہوئی اور آپ لوگوں نے اُن کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں آپ کو اس سے بھی زیادہ لوگوں کے نام بتا سکتا ہوں، جنھوں نے ایک رات پہلے 15 بیئر کے گلاس پیے اور انجری کا شکار ہوئے اور کسی نے ایک لفظ نہیں کہا۔ لیکن جب میں انجری کا شکار ہوتا ہوں تو مجھ پر سوال اُٹھائے جاتے ہیں۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی انجری کا شکار ہوتا ہے تو اس سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے، جس طرح جوش ہیزل وڈ اور نیتھن لائن کے ساتھ کیا جا رہا ہے، یہ وہ چیز تھی جس کے بارے میں میں سب سے زیادہ اداس تھا اور یہی وہ چیز تھی جس سے میں کافی عرصے سے نمٹ رہا ہوں۔ میں اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتا، لیکن مجھے ایسا لگا جیسے مجھے ابھی اور ابھی اس کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا کے سی ای او ٹوڈ گرین برگ نے کہا کہ عثمان نے اپنی شاندار کارکردگی سے آسٹریلوی کرکٹ کو بہت کچھ دیا۔ "وہ ہمارے ایک اسٹائلش اور شاندار بیٹر ہیں اور ہم ان کی خدمات پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ عثمان خواجہ اب تک 87 ٹیسٹ، 40 ون ڈے اور 9 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں۔ ایشیز سیریز کا آخری ٹیسٹ 4 جنوری کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔
