کیا واقعی قائداعظم ایکٹر بننا چاہتے تھے؟ کیوں نہ بن سکے؟

بابائے قوم کی زندگی کا دلچسپ واقعہ
انیسویں صدی کے آخر میں جب قائداعظم محمد علی جناح نوجوان تھے، وہ بمبئی میں رہتے تھے۔ اس وقت وہاں تھیٹر اور ڈرامے کا بڑا چرچا تھا۔ جناح صاحب کو بھی اس دنیا کی کشش محسوس ہوئی۔ وہ اکثر تھیٹر دیکھنے جاتے اور اداکاروں کی پرفارمنس سے متاثر ہوتے۔ ان کے دل میں یہ خواہش جاگی کہ وہ بھی اسٹیج پر کھڑے ہو کر کردار ادا کریں اور تالیوں کی گونج میں اپنی صلاحیت دکھائیں۔
کہا جاتا ہے کہ جناح نے ایک بار اپنے دوستوں سے کہا تھا کہ وہ اداکاری کو بطور پیشہ اپنانا چاہتے ہیں۔ ان کے اندر فنکارانہ مزاج تھا، اور وہ ڈرامے کے مکالمے بڑے شوق سے دہراتے تھے۔
لیکن جب یہ بات ان کے والد تک پہنچی تو انہوں نے سختی سے منع کیا۔ والد کا خیال تھا کہ اداکاری ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم پیشہ ہے، جبکہ قانون اور وکالت ایک باوقار اور محفوظ راستہ ہے۔
یوں جناح کو انگلینڈ بھیج دیا گیا تاکہ وہ قانون کی تعلیم حاصل کریں۔ وہاں انہوں نے لنکنز اِن میں داخلہ لیا اور محنت سے تعلیم مکمل کی۔ لیکن کہا جاتا ہے کہ انگلینڈ میں تعلیم کے دوران تھیٹر اور اداکاری میں دلچسپی لی تھی اور ایک اسٹیج پلے کے لیے آڈیشن بھی دیا تھا جس میں وہ پاس ہوگئے تھے۔
تاہم یہ شوق زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور والد کے دباؤ اور اپنی سنجیدہ طبیعت کی وجہ سے انہوں نے اداکاری چھوڑ کر قانون کی تعلیم پر توجہ دی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اداکاری کا شوق ان کے اندر کہیں نہ کہیں زندہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں جب وہ عدالت میں دلائل دیتے یا عوامی جلسوں میں تقریر کرتے، تو ان کی شخصیت میں ایک خاص اسٹیج پرفارمنس جیسا جادو محسوس ہوتا تھا۔ ان کی آواز، اندازِ بیان اور حاضرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی صلاحیت بالکل ایک کامیاب اداکار کی طرح تھی۔
اگر جناح اداکار بن جاتے تو شاید تاریخ انہیں ایک فنکار کے طور پر یاد کرتی۔ لیکن قسمت نے انہیں ایک مختلف اسٹیج دیا، سیاست کا اسٹیج۔ اور اسی اسٹیج پر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ وہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے قائد اور پاکستان کے بانی بن گئے۔
