یورپی یونین نے جی ایس پی پلس اسکیم پر پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کرلیا

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس سکیم پر عملدرآمد کے سلسلے میں مذاکرات کے دوران انسانی حقوق سے متعلق وعدوں میں پاکستان کی پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی یونین نے رواں ہفتے پاکستان کی ترجیحی تجارتی سکیم جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کا جائزہ لیا اور انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور اچھی حکمرانی سے متعلق اہم اقدامات کی حوصلہ افزائی کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق، یورپی یونین نے سزائے موت کے اطلاق کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق لانے میں پاکستان کی پیش رفت، تشدد کے خلاف اقدامات اور اقلیتوں سے متعلق کمیشن کے قیام کو مثبت اقدام قرار دیا۔
جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت اہل ترقی پذیر ممالک کو یورپی منڈیوں تک ڈیوٹی فری رسائی دی جاتی ہے، بشرطیکہ وہ 27 بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کریں۔ پاکستان 2014 سے اس سکیم سے مستفید ہو رہا ہے اور یورپی یونین پاکستان کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کی تقریباً ایک تہائی برآمدات یورپ جاتی ہیں۔
ماضی میں پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت پر سوالات اٹھ چکے ہیں۔ اپریل 2021 میں یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کی انسانی حقوق کی صورتحال، مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور میڈیا کی آزادی پر قدغنوں کی بنیاد پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔
