امریکا نے بحر اوقیانوس سے روسی تیل بردار جہاز ضبط کرلیا، ماسکو کا شدید ردعمل

امریکا کی جانب سے بحرِ اوقیانوس میں ایک روسی تیل بردار جہاز ضبط کیے جانے پر ماسکو کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی بحری افواج نے روسی پرچم بردار تیل بردار جہاز مارینیرا کو کھلے سمندر میں ضبط کیا۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی وفاقی عدالت کے وارنٹ کے تحت کی گئی اور جہاز امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث تھا۔
دوسری جانب روس نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے،روسی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ نے بلاجواز جہاز پر چڑھائی کی، عملے کو تحویل میں لے لیا اور اس کے بعد جہاز سے تمام تر رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ 1982 کے اقوامِ متحدہ کنونشن برائے قانونِ سمندر کے تحت کھلے سمندروں میں جہاز رانی کی آزادی تمام ممالک کا حق ہے اور کسی ریاست کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے قانونی طور پر رجسٹرڈ جہاز کے خلاف طاقت کا استعمال کرے۔
ادھر روسی وزارتِ خارجہ نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز پر موجود تمام روسی شہریوں کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عملے کے ساتھ انسانی، مہذب اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے اور ان کی وطن واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
امریکی فوج کے یورپی کمانڈ کے مطابق اس کارروائی میں امریکی کوسٹ گارڈ اور دیگر اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
واضح رہے کہ امریکا، روس اور وینزویلا کے درمیان توانائی، پابندیوں اور سمندری تجارت کے معاملات پر پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے، جبکہ حالیہ واقعے نے عالمی سطح پر سفارتی تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
