خصوصی اسٹوریز
جب PIAطیارے کی ہائی جیکنگ ’بالی وڈ اسٹائل‘ میں ناکام بنائی گئی
EditorStaff Reporter
Nov 27, 2025

24 مئی 1998 کو پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب پی آئی اے کے فوکر طیارہ F-27 تربت سے کراچی جاتے ہوئے تین مسلح افراد نے ہائی جیک کر لیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات ایٹمی دھماکوں کے بعد نہایت کشیدہ تھے۔ بھارت نے 11 سے 13 مئی کے دوران ایٹمی تجربات کیے تھے اور پاکستان بھی اپنے جوابی دھماکوں کی تیاری کر رہا تھا۔ اسی پس منظر میں یہ ہائی جیکنگ ایک بڑی سازش کے طور پر سامنے آئی۔
اغوا کار بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے تعلق رکھتے تھے اور جعلی ناموں پر سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے پہلے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کو رشوت دے کر منشیات کے بیگ جہاز میں پہنچائے تاکہ اعتماد حاصل ہو، پلان کے مطابق دوسری بار بھی منشیات کے بیگ چیکنگ کے بغیر جہاز تک پہنچائے گئے تو تیسرے موقع پر اغواکاروں نے انہی بیگز میں ہتھیار رکھ دیے، اہلکار نے منشیات سمجھ کر بیگ کو جہاز تک پہنچا دیا، پھر جیسے ہی جہاز نے گوادر سے کراچی کیلئے اڑان بھری تو کچھ ہی دیر بعد اغواکاروں نے اس جہاز کو ہائی جیک کرلیا۔
ہائی جیکروں میں شاہ سوار، صابر اور شبیر نامی افراد شامل تھے، ان کا مقصد پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنا تھا، ہائی جیکرز کا جہاز کو بھارت لے جانے کا پلان تھا لیکن پولیس، حکام اور جہاز کے کپتان نے بالکل فلمی انداز میں اس ہائی جیکنگ کو ناکام بنا دیا۔
شام کا وقت تھا، رات ہونے والی تھی، اس کا فائدہ اٹھائے ہوئے طیارے کے کپتان عزیر خان نے کمال مہارت سے ہائی جیکرز کو چکما دیا اور جہاز کو انڈیا لے جانے کے بجائے پاکستان کے حیدرآباد ایئرپورٹ پر لینڈ کرا دیا، طیارے کو ایئرپورٹ سے تھوڑا دور اس طرح کھڑا کیا کہ ہائی جیکرز عمارت پر ’حیدر آباد ایئرپورٹ‘ لکھا ہوا نہ دیکھ سکیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ وہ بھارت کے بھوج ایئرپورٹ پر ہیں۔
اغوا کاروں کو طیارے کے کپتان پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ طیارے کو انڈیا کی ریاست گجرات کے بھوج ایئرپورٹ پر ری فیولنگ کی غرض سے لے آئے ہیں جس کے بعد ہائی جیکرز کے مطالبے کے مطابق جہاز کو دہلی لے جایا جائے گا۔
حیدر آباد کے اے ایس پی ڈاکٹر عثمان انور کو اپنے دفتر میں اچانک وائرلیس پر پیغام آیا کہ تمام پولیس افسران فوری طور پر ایئرپورٹ پہنچیں۔ انہیں خدشہ ہوا کہ شاید بھارت نے حملہ کر دیا ہے لیکن جب وہ ایئرپورٹ پہنچے تو معلوم ہوا کہ پی آئی اے کا طیارہ اغوا ہو کر یہاں اترا ہے۔
حیدرآباد ایئرپورٹ حکام نے تمام لائٹس بند کر دی تھیں، ایئرپورٹ پر پولیس، رینجرز اور فوجی افسران پہنچ گئے۔ ایس ایس پی اختر گورچانی نے آپریشن کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے اور ڈاکٹر عثمان انور نے ہائی جیکرز کو دھوکہ دینے کے لیے خود کو بھارتی ایئرپورٹ منیجر ظاہر کیا۔ پانی اور کھانے کی بوتلیں لے کر جہاز کے قریب گئے اور اندرونی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ ہائی جیکرز کے پاس بم نہیں بلکہ صرف چند پستول ہیں۔
رات بھر ہائی جیکرز کو باتوں میں الجھایا گیا۔ انہیں کھانے پینے کی چیزیں دی گئیں اور ہندی زبان میں گفتگو کر کے یقین دلایا گیا کہ وہ بھارت میں ہیں۔ صبح قریب آنے پر حکام کو خدشہ ہوا کہ اگر ہائی جیکرز کو حقیقت معلوم ہو گئی تو وہ خطرناک اقدام اٹھا سکتے ہیں۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ فوری کارروائی کی جائے۔
ہائی جیکرز کو قائل کیا گیا کہ عورتوں اور بچوں کو جہاز سے باہر جانے دیا جائے۔ جیسے ہی مسافر باہر آئے، پولیس اور فوجی افسران نے اچانک حملہ کر کے تینوں ہائی جیکرز کو قابو کر لیا۔ ایک ہائی جیکر کی فائرنگ سے اس کا ساتھی زخمی ہوا لیکن باقی سب محفوظ رہے، اس طرح پاکستان ایک بڑے سانحے سے بچ گیا۔
ہائی جیکرز کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں سخت سزائیں سنائی گئیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
