دوران ڈیوٹی ملازم کو سانس لینے میں دشواری، Boss کا جواب سوشل میڈیا پر وائرل

ملازم کی دوران ڈیوٹی سانس لینے میں دشواری،باس کا جواب سوشل میڈیا پر وائرل
نئی دہلی:بھارت کے کارپوریٹ کلچر سے جڑا ایک واقعہ سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایک ملازم نے دورانِ کام اچانک سانس لینے میں شدید دشواری کی شکایت کی، مگر مدد اور چھٹی کے بجائے اسے ڈیڈ لائن یاد دلا دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بھارت میں پیش آیا، جہاں ملازم نے اپنی مینیجر کو بتایا کہ اس کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتا ہے۔ جواب میں باس نے حیران کن طور پر کہا:
“ابھی ڈیڈ لائن ہے، تھوڑا آرام کرو اور کام مکمل کرنے کی کوشش کرو۔”
یہ مکالمہ ملازم نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ کے IndianWorkplace فورم پر شیئر کیا، جہاں دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوسٹ وائرل ہو گئی۔ ہزاروں صارفین نے باس کے رویے کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید دفاتر میں ملازمین کو انسان نہیں بلکہ صرف “ٹارگٹ پورا کرنے والی مشین” سمجھا جاتا ہے۔
صارفین کا کہنا تھا کہ اگر دفتر میں صحت جیسی بنیادی ضرورت کو نظر انداز کیا جائے تو ایسے ادارے نہ صرف ملازمین کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ خود اپنے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جہاں ڈیڈ لائن زندگی سے زیادہ قیمتی سمجھی جانے لگی ہے۔ سوشل میڈیا پر اب یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ آخر کب دفاتر میں کام اور انسان کے درمیان توازن کو واقعی سنجیدگی سے لیا جائے گا؟
