برطانوی حکومت نے پاکستان جانے پر ہمیں تحفظ نہ دینے کا کہا تھا، عمران خان کے بیٹوں کا انکشاف

کیا عمران خان جلاوطنی قبول کریں گے ؟
پاکستان میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی حکومت نے انہیں پاکستان جانے سے متعلق خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ وہاں گئے تو انہیں کسی قسم کا سرکاری تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
ایک برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سلیمان خان نے بتایا کہ برطانوی حکام نے اس معاملے پر نہ تو کوئی مزاحمت کی اور نہ ہی کوئی عملی کردار ادا کیا، ان کے مطابق حکومتِ برطانیہ نے صاف طور پر مشورہ دیا کہ وہ پاکستان کا سفر نہ کریں۔
قاسم خان کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت اس معاملے میں آگے بڑھنا نہیں چاہتی، ان کے بقول، انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر وہ پاکستان گئے اور گرفتار ہوئے تو برطانوی حکومت ان کی حفاظت یا رہائی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایک شہری کے طور پر یہ توقع ہوتی ہے کہ والد سے ملاقات کے لیے جانے والے دو برطانوی شہریوں کو کچھ نہ کچھ تحفظ دیا جائے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا عمران خان جلاوطنی قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تو دونوں بیٹوں نے واضح کیا کہ ان کے والد کسی بھی ایسی جلاوطنی کو قبول نہیں کریں گے جس میں ان کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہو۔
تاحال برطانوی حکومت نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان سے جیل میں ملاقاتوں پر 8 فروری تک پابندی رہے گی، ان کا کہنا تھا کہ جیل کو سیاسی سرگرمیوں کا مرکز نہیں بنایا جا سکتا۔
