سندھ کے سرکاری محکموں میں 836 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیاں

ہوشربا اعداد و شمار
سندھ کے سرکاری محکموں میں836 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابگیاں
سندھ کے سرکاری محکموں میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ 2023-2024 کی رپورٹ کے مطابق مختلف صوبائی محکموں میں 836 ارب عشاریہ 43 کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 97 ارب عشاریہ 86 کروڑ روپے کا سرکاری ریکارڈ آڈٹ ٹیموں کو دیا ہی نہیں گیا، جس سے شبہ ہوتا ہے کہ یہ رقم بغیر کسی ثبوت کے خرچ کی گئی۔ اسی طرح 1 عشاریہ 08 ارب روپے کے فراڈ کے کیسز بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 32 عشاریہ 12 ارب روپے غیر قانونی بھرتیوں پر خرچ کیے گئے،55 عشاریہ 40 ارب روپے کی خریداریوں میں بے قاعدگیاں سامنے آئیں،جبکہ42 عشاریہ 10 ارب روپے غیر قانونی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 19 عشاریہ 40 ارب روپے جعلی سروسز اور بغیر کام کے بلوں کے ذریعے خرچ ظاہر کیے گئے۔
آڈیٹرل جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت میں 62 عشاریہ 5 ارب روپے جعلی ووچرز، مشکوک دواؤں کی خریداری اور ناقص خدمات کے نام پر ہڑپ کیے گئے،محکمہ تعلیم میں 49 عشاریہ 2 ارب روپے جعلی بھرتیوں، غیر فعال اسکولوں اور جعلی حاضریوں کی مد میں ضائع کیے گئے،آبپاشی کے محکمے میں 42 عشاریہ 9 ارب روپے فرضی ٹینڈرز، بغیر کام کے ادائیگیوں اور کاغذی منصوبوں کی نذر ہوگئے،ورکس اینڈ سروسز میں 58 عشاریہ 4 ارب روپے نامکمل سڑکوں، عمارتوں اور ناقص تعمیراتی کاموں کے ذریعے غائب کیے گئے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ زراعت میں 37 عشاریہ 6 ارب روپے جعلی بیج، کھاد اور مشینری کی خریداری کے نام پر خرچ بتائے گئے،لائیو اسٹاک اور فشریز میں 28 عشاریہ 3 ارب روپے کاغذی منصوبوں میں دکھا کر غائب کر دیے گئے،محکمہ داخلہ میں 33 ارب روپے اضافی تنخواہوں، گاڑیوں کے تیل اور مرمت کے نام پر خوردبرد کیے گئے،سیاحت و ثقافت کے شعبے میں گورک ہِل اسٹیشن کے منصوبے کے لیے جاری فنڈز میں سے 17 کروڑ عشاریہ 70 لاکھ روپے کا ریکارڈ موجود ہی نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً تمام محکموں میں ریکارڈ میں ہیرا پھیری، جعلی خریداری، غیر قانونی بھرتیاں اور فرضی منصوبوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سفارش کی ہے کہ سندھ حکومت ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے اور قومی خزانے کو پہنچنے والا تمام نقصان پورا کروایا جائے، تاکہ مستقبل میں مالی شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
