دلچسپ/حیرت انگیز
زمین پر ہی جہنم کا دروازہ !!! لیکن کہاں؟؟؟
Staff reprterStaff Reporter
Nov 24, 2025 · 9:30 PM

حقیقت جان کر دنیا دنگ رہ گئی
ایسا بہت کم ہوتا ہے جب ایک حادثہ ایک بڑے سیاحتی مقام کی شکل اختیار کرلے۔ مگر ایسا 5 دہائیوں سے زائد عرصے قبل ترکمانستان میں اس وقت ہوا جب سوویت یونین کے ماہرین کی ایک ٹیم قدرتی گیس کی کھوج کر رہی تھی یا کم از کم ایسا سمجھا جاتا ہے۔
وہاں ہونے والے ایک حادثے کے نتیجے میں دروازہ نامی گیس کا کنواں بنا۔ یہ ایک بہت بڑا آگ کے شعلوں سے بھرا سوراخ ہے جو بتدریج ترکمانستان کی سیاحت کرنے والوں کا سب سے پسندیدہ مقام بن گیا۔ اسے 'گیٹ وے ٹو ہیل' یعنی 'جہنم کا دروازہ' کہا جاتا ہے۔
ترکمانستان کے 70 فیصد حصے پر صحرائے قراقم پھیلا ہوا ہے۔ ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط اس صحرا کے شمال کی طرف ایک بڑا گڑھا ہے جس کا نام گیٹ کریٹر ہے۔
69 میٹر چوڑے اور 30 میٹر گہرے اس گڑھے میں گزشتہ کئی دہائیوں سے آگ سلگ رہی ہے لیکن اس کی وجہ کوئی 'شیطان' نہیں بلکہ اس سے نکلنے والی قدرتی گیس (میتھین) ہے۔
یہ میتھین پھیلانے والا گڑھا ہر سال تقریباً چھ ہزار سیاحوں والے اس ملک کے سب سے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک بن گیا ہے۔ صحرائے قراقم میں یہ گڑھا رات کے وقت بھی دور سے نظر آتا ہے اور بہت سے سیاح اسے دیکھنے جاتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سنہ 1971 میں سوویت یونین کے ماہرینِ ارضیات قراقم کے صحرا میں خام تیل کے ذخائر تلاش کر رہے تھے۔ یہاں انھیں ایک جگہ قدرتی گیس کے ذخائر ملے لیکن تلاشی کے دوران وہاں کی زمین دھنس گئی اور وہاں تین بڑے گڑھے بن گئے۔
ان گڑھوں سے میتھین کے اخراج کا خطرہ تھا، جو فضا میں تحلیل ہو سکتی تھی۔ ایک نظریہ کے مطابق اسے روکنے کے لیے ماہرین ارضیات نے ان میں سے ایک کو آگ لگا دی۔ ان کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں میتھین ختم ہو جائے گی اور آگ خود بخود بجھ جائے گی۔
لیکن کینیڈا کے سیاح جارج کورونیس کا کہنا ہے کہ انھیں اس کہانی کے حق میں کوئی دستاویز نہیں مل سکی جسے سچ سمجھا جائے۔
کوئی بھی یقین سے نہیں بتا سکتا کہ یہ گیس کا گڑھا کب ظاہر ہوا کیونکہ سوویت عہد کی رپورٹس یا تو غائب ہیں یا ان تک دستیابی ممکن نہیں۔
2013 میں نیشنل جیوگرافک چینل کے لیے بنائے جانے والے پروگرام کے دوران ایک ٹیم ترکمانستان کے اس علاقے میں پہنچی۔ جارج کورونیس اس ٹیم کے رکن تھے۔ وہ یہ جاننے وہاں گئے تھے کہ اس گڑھے میں 'مسلسل جلتی' آگ دراصل کب شروع ہوئی۔ لیکن ان کی تحقیق نے سوالات کے جواب دینے کے بجائے مزید سوالات کو جنم دے دیا۔
ترکمانستان کے ماہرین ارضیات کے مطابق یہ بڑا گڑھا دراصل سنہ 1960 کی دہائی میں بنا تھا لیکن اس میں آگ 1980 کی دہائی میں لگی۔
مورخ جیرونم پیرووک کا کہنا ہے کہ 'دوزخ کے دروازے' کے بارے میں جو پراسراریت ہے وہ مکمل طور پر منطقی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ سوویت یونین کے دور میں کام کیسے ہوتے تھے۔ اس وقت صرف ان مہمات کی معلومات کو عام کیا جاتا تھا جو کامیاب ہوتی تھیں، لیکن ناکام ہونے والے منصوبوں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ اگر مقامی لوگوں نے کچھ غلط کیا ہے تو وہ نہیں چاہتے کہ دوسرے اس بارے میں جانیں۔
آگ کا یہ گڑھا جو صحرا کے بیچوں بیچ ابھرا تھا، اس سے جان و مال کے نقصان کا اندیشہ نہ تھا اور اس کا اثر بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت سوویت یونین کے پاس قدرتی گیس یا ایندھن کی کوئی کمی نہیں تھی، وہ ہر سال سات لاکھ کیوبک میٹر قدرتی گیس پیدا کرتا تھا۔ ایسے میں عین ممکن ہے کہ گیس کو جلا دینا ان کے لیے ایک قابل عمل تجویز ہو۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
