فرانس میں جنسی ہراسانی پر میئر کو جیل بھیج دیا گیا

فوری طور پر میئرشپ چھوڑنے کا حکم
فرانس کے شہر سینٹ ایٹین کے میئر گائل پیرڈریو کو عدالت نے سیکس ٹیپ کے ذریعے اپنے سیاسی حریف کو بلیک میل کرنے کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے ان پر عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور فوجداری سازش کے الزامات بھی تسلیم کیے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ پیرڈریو نے اپنے سابق ڈپٹی میئر گلِس آرٹیگس کو 2015 میں خفیہ طور پر ریکارڈ شدہ وڈیو کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کی تاکہ وہ بلدیاتی انتخابات سے دستبردار ہو جائیں۔ یہ وڈیو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کی گئی۔
عدالت نے حکم دیا کہ پیرڈریو فوری طور پر میئرشپ چھوڑ دیں اور آئندہ پانچ سال تک کسی بھی عوامی عہدے پر فائز نہ ہوں۔ ان کے قریبی ساتھی بھی اس سازش میں ملوث پائے گئے اور انہیں بھی سزا دی گئی۔
پیرڈریو کا تعلق دائیں بازو کی جماعت سے ہے اور ابتدا میں انہوں نے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا، لیکن عدالت نے انہیں مکمل طور پر مجرم قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کیس فرانس میں سیاست اور اخلاقیات کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ عوامی عہدے پر فائز شخص کو مثال بننا چاہیے، لیکن طاقتور شخصیات کے ذاتی اور غیر اخلاقی اقدامات سیاسی نظام پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
سینٹ ایٹین کی مقامی سیاست میں اس فیصلے کے بعد ہلچل مچ گئی ہے اور شہر کی میئرشپ اور عوامی اعتماد کے کلچر پر اس کے اثرات دیرپا ہوں گے۔
