24سالہ لڑکے کا دماغ 70سالہ بوڑھے جتنا کمزور کیوں؟ سائنس دان حیران

نوجوان چل بسا، والدین نے دماغ سائنس دانوں کو عطیہ کردیا
دنیا کے سب سے کم عمر ڈیمنشیا کے مریض، اینڈرے یارہم، صرف 24 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انہیں ایک نایاب دماغی بیماری فرنٹوٹیمپورل ڈیمنشیا (FTD) لاحق تھی، جس کی وجہ سے ان کا دماغ تیزی سے سکڑنے لگا اور شخصیت و رویے میں غیر معمولی تبدیلیاں آنے لگیں۔
اینڈرے کے والدین نے بیٹے کے انتقال کے بعد اس کا دماغ سائنس کے لیے عطیہ کر دیا تاکہ محققین اس بیماری کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور مستقبل میں دوسرے خاندانوں کی مدد ہو سکے۔
اینڈرے کی والدہ کا کہنا تھا کہ اگر یہ قربانی کسی ایک خاندان کو اپنے پیارے کے ساتھ مزید وقت گزارنے کا موقع دے سکے تو یہ ان کے لیے بہت بڑی تسکین ہوگی۔
اینڈرے میں بیماری کی ابتدائی علامات صرف 22 برس کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ والدہ نے محسوس کیا کہ بیٹے کی یادداشت اور رویے میں اچانک ایسی تبدیلیاں آ رہی ہیں جو اس کی اصل شخصیت کے خلاف تھیں۔
بعد ازاں ڈاکٹروں نے معائنے کے دوران دماغ میں غیر معمولی سکڑاؤ دیکھا اور انہیں کیمبرج کے ایڈن بروکس اسپتال میں ریفر کیا، جہاں فرنٹوٹیمپورل ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی۔
یہ بیماری عام طور پر 45 سے 65 سال کے افراد کو متاثر کرتی ہے، لیکن بعض اوقات نوجوانوں میں بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔ دیگر اقسام کے ڈیمنشیا کے برعکس، ایف ٹی ڈی میں یادداشت شروع میں متاثر نہیں ہوتی بلکہ شخصیت، رویے اور جذباتی ردعمل میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
