نیشنل
سندھ سے متعلق بھارتی وزیر کا اشتعال انگیز بیان، امر سندھو نے آئینہ دکھا دیا
EditorStaff Reporter
Nov 24, 2025 · 4:51 PM

’بال ٹھاکرے کے پوتے نے ناپاک ارادے ظاہر کردیئے‘
سندھ یونیورسٹی کی پروفیسر و سوشل ایکٹیوسٹ امر امر سندھو نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے سندھ سے متعلق اشتعال انگیز بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے، امر سندھو نے سوشل میڈیا پر راج ناتھ سنگھ کے بیان کا عکس پوسٹ کرکے اس پر بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں راج ناتھ سنگھ کے بیان کو ہندوتوا کا بیانیہ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ سندھ سے متعلق ہندوتوا کا بیانیہ تاریخ سے بلاتکار (ریپ) ہے۔
امر سندھو نے بھارتی وزیرِ دفاع کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بال ٹھاکرے کا پوتا کہا، وہ مزید لکھتی ہیں کہ بال ٹھاکرے کے پوتے نے پاکستان سے جنگی محاذ پہ شکست کھانے کے بعد اب سندھ سے متعلق اپنے ناپاک ارادے ظاہر کردیئے ہیں، بال ٹھاکرے کے جانشینوں کو تاریخ دوبارہ پڑھنی چاہئیے، ایسا نہ ہو کہ اس دعوی پر بھارت کو لینے کے دینے پڑ جائیں۔
امر سندھو نے اپنی پوسٹ میں سندھ اور ہند کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ برطانوی نوآبادیاتی راج نے سندھ کو 1847 میں سیاسی طور پر کمزور رکھنے کے لیے بمبئی پریزیڈنسی میں ضم کر دیا۔ اس فیصلے نے سندھ کی انتظامی خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا اور اسی کے خلاف اٹھنے والی مزاحمتی تحرکات نے جدید سندھی قوم پرستی کی فکری بنیاد استوار کی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بمبئی ریزیڈینسی سے سندھ کی علیحدگی کی سیاسی تحریک کوئی جذباتی ردِعمل نہیں تھی، یہ ایک واضح سیاسی مطالبہ تھا، جو نوآبادیاتی مرکزیت کے خلاف سندھ کے تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی تشخص کے دفاع پر قائم تھا۔
امر سندھو نے کہا کہ قدیم تاریخ کو دیکھیں تو بھی ’ہند‘ کے نام کے بارے میں رائج بیانیہ بھی تاریخی طور پر کمزور ہے۔ قدیم ادوار میں ’ہند‘ نام کا کوئی مربوط سیاسی خطہ موجود نہیں تھا۔ اصل اور بنیادی اصطلاح "سِندھُ / سندھو" تھی، جو وادیٔ سندھ، دریائے سندھ اور اس کے گرد صدیوں سے موجود تہذیبی اکائی کے لیے استعمال ہوتی رہی۔
اپنی فیس بک پوسٹ میں امر سندھو مزید لکھتی ہیں کہ فارسی ماخذوں میں صوتی تبدیلی (phonetic shift) کے نتیجے میں حرف س کئی مواقع پر "ہ" میں بدلتا ہوا ملتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ فارسی اور ایرانی مؤرخین نے "سندھ" کو "ہند" کی صورت میں رائج کیا۔
بعد ازاں یونانی و رومی ذرائع نے اسی صوتی بگڑن کو Indos/Indus کی شکل دے دی اور موجودہ “India” کا لفظ اسی تاریخی لسانی تبدیلی کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی قدیم سیاسی یا جغرافیائی وحدت کا۔
سندھ کی تاریخی جغرافیائی حدود کبھی بھی محض موجودہ صوبائی نقشے تک محدود نہیں رہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیبی اور سیاسی رسائی صدیوں تک موجودہ ہندستان میں شامل گجرات کے شمالی علاقوں، رن آف کَچھ، کَچھ کے بڑے حصے، تھر–پارکر سے متصل راجستھان کے خطوں، اور سرائیکی وسیب تک پھیلی ہوئی تھی۔
امر سندھو کے بقول ان خطوں کے سماجی، معاشی اور ثقافتی روابط اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ سندھ محض ایک علاقہ نہیں بلکہ ایک وسیع تاریخی–تہذیبی زون تھا۔ ایسے میں جدید ہندوتوا بیانیہ، جو سندھ کو "ہند" کی کسی فرضی تاریخی وحدت میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے،
امر سندھو کا یہ بھی کہنا تھا کہ تاریخ کے بنیادی اصولوں لسانیات، جغرافیائی ارتقا، نوآبادیاتی سیاست، اور تہذیبی باہمیت سبھی کی نفی کرتا ہے۔ اگر مؤرخانہ معیارات کو بنیاد بنایا جائے تو سوال اُلٹا اٹھتا ہے کہ تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں “ہند” کی تعریف کے بجائے سندھ کی تہذیبی سرحدیں کہیں زیادہ واضح، مستقل اور وسیع دکھائی دیتی ہیں۔
لہٰذا، علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ جدید سیاسی مطالبات کو تاریخ پر مسلط کرنے کے بجائے تاریخ کو اس کے اپنے سیاق، اپنے جغرافیے اور اپنی لسانی ارتقا کے اندر سمجھا جائے۔
سندھ یونیورسٹی کی پروفیسر نے بی جے پی سرکار کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی اور بال ٹھاکرے کے مسلط کردہ ہندتوا بیانیہ سے بھی اگر تاریخ کو سامنے رکھہ کر فیصلہ کیا جائے تو ہندستان کو اپنے کچھہ علاقے سندھ کو واپس کرنے پڑیں گے تو لہذا ہندستان کے حکمران تاریخ کا احترام کرتے ہوئے اس قسم کی مہم جوئی سے باز آجائیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
