افغان طالبان امیر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمت عملی القاعدہ اور داعش کے مترادف ہے: امریکی جریدہ

’طالبان کا نظام سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے‘
امریکی جریدے نے اپنی تازہ رپورٹ میں افغان طالبان کے امیر شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمت عملی کو شدت پسند تنظیموں القاعدہ اور داعش کے مترادف قرار دے دیا ہے۔
امریکی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کا تعلیمی اور نظریاتی نظام نہ صرف افغانستان بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان نے اپنی زیرِ قیادت مدارس اور تعلیمی اداروں کو نوجوانوں میں شدت پسندی اور نظریاتی وفاداری کی تربیت دینے کے لیے استعمال کیا ہے، جس سے ایک نئی نسل تیار ہو رہی ہے جو عالمی جہاد کو دینی فریضہ سمجھ سکتی ہے۔
امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ طالبان کی اسلام کی تشریح نہ تو افغان روایات ہے اور نہ ہی پشتون معاشرت، بلکہ یہ ایک سخت اور آمرانہ نظریہ ہے جو جنوبی اور وسطی ایشیا میں عدم استحکام بڑھا سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغان طالبان کے زیرِ قیادت تقریباً 23 ہزار مدارس میں تعلیم کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے، جس پر گہرے خدشات پائے جاتے ہیں۔
امریکی جریدے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ اگر طالبان کے نظریاتی تعلیمی ماڈل اور عالمی جہادی مشن کو نہ روکا گیا تو یہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔
