دھمکیاں دینے والوں کیخلاف ایکشن لیا جائے: پاکستان نے قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر کو ڈیمارش جاری کردیا

پاکستان نے برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) جاری کیا ہے، جس میں برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر دی جانے والی دھمکیوں اور پاکستانی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔
وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق برطانیہ کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن میٹ کینل کو دوپہر تقریباً دو بجے طلب کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ برطانوی شہر بریڈفورڈ میں پاکستانی قونصلیٹ کے باہر ہونے والے مظاہرے پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اس وقت ملک میں موجود نہیں ہیں۔
پاکستانی حکومت نے برطانیہ کو باور کرایا کہ اس کی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ پاکستان نے امید
ظاہر کی کہ برطانیہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے گا اور انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے مظاہرین کو جمع کیا گیا تھا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف نہایت اشتعال انگیز اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔ مزید یہ کہ فیلڈ مارشل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور کہا گیا کہ انہیں کار بم دھماکے میں قتل کر دیا جائے۔
یہ واقعہ پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بنا ہے اور اسی تناظر میں برطانیہ سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
