آسٹریا میں کم عمر بچیوں کے اسکول میں حجاب پہننے پر پابندی

خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ ہوگا
یورپی ملک آسٹریا کی پارلیمنٹ نے اسکولوں میں 14 سال سے کم عمر طالبات کے لیے حجاب پہننے پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لڑکیوں کو یکساں ماحول فراہم کرنا اور انہیں کسی بھی قسم کے دباؤ یا جبر سے بچانا ہے۔
قانون کے تحت اگر کسی طالبہ کے لیے یہ اصول توڑا گیا تو والدین یا سرپرست کو 800 یورو تک جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت نے اس تجویز کو رواں سال پیش کیا تھا اور اب اسے باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
اس پابندی کے حوالے سے حزبِ اختلاف کی جماعت گرین پارٹی نے مخالفت کی اور اسے غیر آئینی قرار دیا، تاہم حکومتی مؤقف یہ ہے کہ یہ قدم لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ اور اسکولوں میں یکساں تعلیمی ماحول قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
انسانی حقوق تنظیموں اور ماہرین نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرتی تقسیم کو بڑھا سکتا ہے، لیکن حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بچیوں کو آزادی اور تعلیم پر توجہ دینے کا موقع ملے گا۔
یہ یاد رہے کہ اس سے قبل 2019 میں 10 سال سے کم عمر لڑکیوں کے اسکارف پہننے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ موجودہ قانون کو اس سلسلے کی توسیع قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد اسکولوں میں یکساں قوانین اور طلبہ کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔
