غزہ میں 4 ہزار گلوکوما مریض بینائی کھونے کے خطرے سے دوچار

صورتحال خطرناک
غزہ میں 4 ہزار گلوکوما مریض بینائی کھونے کے خطرے سے دوچار، وزارتِ صحت کی ہنگامی اپیل
غزہ — غزہ کی وزارتِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں تقریباً 4,000 گلوکوما کے مریض ادویات کی شدید قلت اور علاج کی عدم دستیابی کے باعث بینائی کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ وزارت کے مطابق، غزہ میں علاج کے محدود وسائل اور سرجری کی کم تعداد نے آنکھوں کے مریضوں کے لیے صورتحال نہایت نازک بنا دی ہے۔
ترجمان وزارتِ صحت نے بتایا کہ تشخیصی اور جراحی کے آلات کو پہنچنے والے سنگین نقصان نے نہ صرف آپریشنز کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ سرجری کے لیے انتظار کا دورانیہ بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھوں کے امراض خصوصاً گلوکوما کے مریضوں کے لیے ادویات کا اسٹاک انتہائی کم ہے اور موجودہ ذخیرہ ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔
وزارتِ صحت نے تمام متعلقہ عالمی اداروں اور امدادی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے غزہ میں ضروری تشخیصی آلات، سرجیکل سہولیات اور خصوصی ادویات کی فراہمی یقینی بنائیں، تاکہ مریضوں کی بینائی کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔
گلوکوما (Glaucoma) آنکھوں کی ایک خطرناک بیماری ہے جس میں آنکھ کا اندرونی دباؤ (Eye Pressure) بڑھ جاتا ہے۔ یہ دباؤ آہستہ آہستہ بینائی دینے والی آپٹک نرو کو نقصان پہنچاتا ہے، جس کے نتیجے میں مریض کا دائرۂ نظر تنگ ہوتا جاتا ہے اور اگر بروقت علاج نہ ہو تو مکمل اندھاپن بھی ہوسکتا ہے۔
گلوکوما کی علامات یہ ہیں کہ دھندلا دکھائی دینا،آنکھ یا سر میں درد،رات کو کم دکھائی دینا،روشنی کے گرد ہالہ (Halo) نظر آنا،اچانک بینائی میں کمی شامل ہے
