خصوصی اسٹوریز
زلزلے کیوں آتے ہیں، پیشگوئی کرنا مشکل کیوں؟
EditorStaff Reporter
Nov 30, 2025

ٹیکٹونک پلیٹس کیا ہیں؟
زمین کی ہلچل یا تھرتھراہٹ کو زلزلہ کہا جاتا ہے۔ روزانہ دنیا میں سیکڑوں زلزلے آتے ہیں لیکن زیادہ تر اتنے ہلکے ہوتے ہیں کہ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتے۔ کبھی کبھار بڑے اور خطرناک زلزلے آتے ہیں جو تباہی اور جانی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
زمین کی سطح بڑے بڑے پتھریلے ٹکڑوں )ٹیکٹونک پلیٹس) سے بنی ہے جو نیچے موجود پگھلے ہوئے لاوے پر تیرتی رہتی ہیں۔ یہ پلیٹیں مسلسل حرکت کرتی ہیں اور جب ان کے بیچ دباؤ بڑھتا ہے تو یہ الگ ہو جاتی ہیں۔ ان دراڑوں کو فالٹ کہا جاتا ہے۔ دباؤ کے اچانک اخراج سے توانائی پھیلتی ہے اور زلزلہ آتا ہے۔
پہلے زلزلے کو ناپنے کے لیے سیسموگراف (Seismographs)استعمال ہوتے تھے، جو زمین کی ہلچل کو سوئیوں کے ذریعے ریکارڈ کرتے تھے۔ آج کل ڈیجیٹل آلات اور عالمی نیٹ ورکس موجود ہیں جو زلزلوں کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں۔ شدت، گہرائی، دورانیہ اور مقام کا تعین مختلف پیمائشوں کے موازنے سے کیا جاتا ہے۔
زلزلے دراصل زمین کے اندر بہت طویل اور پیچیدہ عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں، جو انسانی مشاہدے سے کہیں زیادہ گہرائی میں ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود سائنسدان جدید ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے زلزلوں کے امکانات کا حساب لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ زلزلے کی درست پیشگوئی فی الحال ممکن نہیں۔ البتہ بڑے زلزلے کے بعد جمع شدہ ڈیٹا سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے زلزلے کے امکانات کہاں زیادہ ہیں۔ جدید آلات بعض اوقات زلزلے سے چند سیکنڈ پہلے خبردار کر سکتے ہیں تاکہ ٹرینوں کی رفتار کم کی جا سکے یا ایمرجنسی اقدامات کیے جا سکیں۔
ماہرین فالٹ لائنز کی حرکت اور دباؤ کو ماڈل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ دباؤ کہاں منتقل ہو رہا ہے۔ لیکن یہ کام بہت مشکل ہے کیونکہ دباؤ جمع ہونے کا عمل صدیوں پر محیط ہو سکتا ہے جبکہ اس کا اخراج صرف چند سیکنڈ میں ہوتا ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
