’آخر اتنی دیر ’باتھ روم‘ میں کرتے کیا ہو؟‘ چینی کمپنی نے ایک ملازم کو نوکری سے نکال دیا

ملازم عدالت پہنچ گیا، پھر کیا ہوا؟
چین کے صوبے جیانگ سو سے تعلق رکھنے والے ایک انجینیئر کو بار بار اور غیر معمولی طور پر طویل باتھ روم بریکس لینے کے باعث ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس شخص کا خاندانی نام لی بتایا گیا ہے، جس نے ایک ہی ماہ میں کئی مرتبہ غیر معمولی وقفے لیے، جن میں سب سے طویل بریک چار گھنٹے تک جاری رہا۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب لی نے اپنی برطرفی کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے کمپنی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا۔ کیس کی سماعت کے دوران لی نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک بیماری میں مبتلا ہیں اور اس کے ثبوت کے طور پر اپنی ادویات اور رواں سال جنوری میں ہونے والی سرجری کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔
لی نے کمپنی کے خلاف 3 لاکھ 20 ہزار یوآن تقریباً 45 ہزار امریکی ڈالر ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا۔ تاہم عدالت نے فیصلہ دیا کہ لی کے باتھ روم میں گزارے گئے طویل اوقات ان کی جسمانی ضرورت سے کہیں زیادہ تھے، اس لیے کمپنی کا اقدام درست تھا۔
یہ واقعہ چین میں ملازمت کے قوانین اور ملازمین کے حقوق پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ لی کا مؤقف تھا کہ بیماری کی وجہ سے وہ مجبور تھے، جبکہ عدالت نے کمپنی کے فیصلے کو جائز قرار دیا۔
