پاکستان میں سندھ اور پنجاب کے دریاؤں میں غیر مقامی مچھلیوں نے مقامی ایکو سسٹم کو خطرے میں ڈال دیا

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نےسندھ اور پنجاب میں غیر ملکی مچھلیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد پرتشویش کااظہار کیا ہے۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق 4 جنوری کو کراچی فش ہاربر پر سکھر سے ایک عجیب مچھلی لائی گئی، ماہرین نے اس کی شناخت ایمازون سیل فِن کیٹ فِش کے طور پر کی اور اب یہ پاکستان میں اتنی زیادہ ہو چکی ہیں کہ انہیں ختم کرنا یا کنٹرول کرنا تقریباً ناممکن ہے یہ مچھلی حملہ آور نسل سے ہے، جو بہت تیزی سے پھیلتی ہے۔
حملہ آور نسل سے تعلق رکھنے والی یہ مچھلیاں عام طور پر گھروں کے مچھلی گھروں (ایکوریم) کے لیے امپورٹ کی جاتی ہیں اور پاکستان میں ایسی 26 غیر ملکی مچھلیاں پائی جا چکی ہیں جو مقامی مچھلیوں سے خوراک اور جگہ چھین لیتی ہیں اور انہیں کھا جاتی ہیں اورنئی بیماریاں پھیلاتی ہیں، دریاؤں اور جھیلوں کے قدرتی نظام کو تباہ کر رہی ہیں۔
پاکستان میں دکھائی دی گئی ان حملہ آور مچھلیوں میں لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والی "ایمازون سیل فن کیٹ فش"، پاکو اور سرخ پیٹ والی تلپیا مچھلیاں سرفہرست ہیں۔
پاکو نامی غیر ملکی نسل دریائے چناب اور کندھ کوٹ میں پائی گئی ہےیہ مچھلی مقامی مچھلیوں کو ختم کر رہی ہے اور ماحولیاتی توازن بگاڑ رہی ہے، سرخ پیٹ والی تلپیا سمیت کئی حملہ آور مچھلیاں آبی پیداوار کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے غیر ملکی مچھلیوں کی درآمد فوری طور پر روکنے اور ایک مضبوط قرنطینہ نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
