سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
"قدیم چینی نسخہ بانجھ پن کے علاج میں مؤثر ثابت
EditorStaff Reporter
Nov 28, 2025

نئی تحقیق میں انکشاف
ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ قدیم چینی جڑی بوٹیوں پر مبنی ایک روایتی نسخہ خواتین میں بانجھ پن کے علاج میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق حال ہی میں Reproductive and Developmental Medicine جرنل میں شائع ہوئی ہے، جس میں سائنسدانوں نے Jinfeng Pills نامی مرکب کا تجزیہ کیا—یہ نسخہ تاریخی طور پر چینی شاہی حرم میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
تحقیق میں سائنسدانوں نے Sprague-Dawley نسل کی مادہ چوہیوں پر تجربات کیے، جن میں رحم کی اندرونی تہہ (Endometrium) غیر معمولی طور پر پتلی تھی۔ یہ حالت اکثر خواتین میں بانجھ پن کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ Jinfeng Pills کے استعمال سے نہ صرف رحم کی تہہ کی موٹائی میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ رحمی غدود (glandular structures) کی صحت بھی بہتر ہوئی، جو حمل کے لیے ضروری عوامل میں شامل ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا کہ یہ جڑی بوٹیوں کا مرکب جسم میں موجود ایک اہم انزائم Protein Phosphatase 2A (PP2A) کو فعال کرتا ہے، جو خلیاتی سطح پر تولیدی نظام کی مرمت اور سگنلنگ میں کردار ادا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ Jinfeng Pills نے ان جینز (MYC, HOXA9, HOXA10) کی سرگرمی کو کم کیا جو عام طور پر کینسر اور تولیدی نظام کی خرابیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج قدیم طب اور جدید حیاتیاتی سائنس کے درمیان ایک پل ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تجربات ابھی جانوروں تک محدود ہیں، لیکن ان سے یہ امید ضرور پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں انسانوں پر بھی اس مرکب کے مثبت اثرات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
یونیورسٹی آف شنگھائی جیاو ٹونگ (Shanghai Jiao Tong University) کے محققین نے اس تحقیق کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو بانجھ پن کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہیں اور جن کے لیے موجودہ علاج مؤثر ثابت نہیں ہو رہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ انسانی استعمال سے قبل مزید تحقیق اور کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔ کسی بھی جڑی بوٹی یا قدرتی علاج کو بغیر مشورے کے استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر تولیدی صحت جیسے حساس معاملات میں۔
یہ تحقیق نہ صرف بانجھ پن کے علاج میں نئی راہیں کھولتی ہے بلکہ اس بات کی بھی مثال ہے کہ کس طرح روایتی طب کو جدید سائنسی بنیادوں پر پرکھا جا سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں یہ مرکب انسانوں پر بھی مؤثر ثابت ہوا تو یہ تولیدی صحت کے میدان میں ایک انقلابی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
