روسی صدر 2روزہ دورے پر بھارت پہنچ گئے

دورے کے مقاصد کیا ہیں؟
روس کے صدر ولادیمیر پوتن جمعرات کی شام بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچے، جہاں ان کا طیارہ پالَم ہوائی اڈے پر اترا اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے غیر معمولی طور پر خود اِن کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ہوائی جہاز کے دروازے پر گرمجوشی سے مصافحہ کیا، جسے دونوں ممالک کی گہری شراکت داری کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔ پوتن کے ہمراہ روس کے اعلیٰ دفاعی، سفارتی اور تجارتی حکام بھی بھارت آئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دورہ دفاع، توانائی، تجارت، جوہری تعاون اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں مستقبل کی پیش رفت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ آج رات وزیراعظم مودی کی جانب سے پوتن کے اعزاز میں نجی عشائیہ رکھا گیا ہے، جبکہ جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سربراہی مذاکرات ہوں گے جن میں متعدد سرکاری اور تجارتی معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ یہ دورہ اس لئے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد پوتن پہلی بار بھارت آئے ہیں، اور عالمی دباؤ کے اس ماحول میں بھارت اور روس اپنے دیرینہ ’’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک تعلق‘‘ کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
