نئی اسرائیلی بستیوں کی منظوری غیر قانونی قرار، دو ریاستی حل کو نقصان پہنچ سکتا ہے: یورپی ممالک کی مذمت

متعدد یورپی ممالک اور کینیڈا نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیوں کی منظوری کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
بیلجیئم، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، اٹلی، آئرلینڈ، جاپان، مالٹا، نیوٹرلینڈ، ناروے، اسپین، برطانیہ، آئس لینڈ اور کینیڈا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کا مذکورہ اقدامات خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بیان میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان فیصلوں کو واپس لے اور قبضے کی موجودہ پالیسیوں کو روک کر امن کے لیے کردار ادا کرے۔
اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے نئی بستیوں کی منظوری دی ہے، جس پر مقامی فلسطینی اور عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی اداروں نے بھی کہا ہے کہ یہ بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے اور امن کی کوششوں کے لیے رکاوٹ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد سیکورٹی خدشات کا مقابلہ اور حقِ دفاع ہے، تاہم عالمی ردِ عمل میں اسے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
