روس یوکرین جنگ بندی کیلئے ٹرمپ اور زیلنسکی کی طویل ملاقات، امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا؟

ٹرمپ نے زیلنسکی کو کس بات سے خبردار کیا؟
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات کسی بڑے نتیجے کے بغیر ختم ہوگئی۔
یہ ملاقات فلوریڈا میں ٹرمپ کی رہائش گاہ مارالاگو میں دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہی، جس میں امن منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوئی۔ اہم رکاوٹ یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونباس کا مستقبل رہا، جس پر دونوں رہنما کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے قریب ہیں، لیکن امن منصوبے کے کچھ نکات ابھی طے نہیں ہو سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین جلد معاہدہ نہ کرے تو روس مزید علاقوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ مذاکرات کار پہلے ہی مسودے کے 90 فیصد نکات پر متفق ہو چکے ہیں، تاہم ڈونباس کے بارے میں فیصلہ یوکرینی عوام کریں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امن معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی علاقہ ہے، کیونکہ روس پورے ڈونباس پر قبضہ چاہتا ہے اور صدر پیوٹن نے واضح کیا ہے کہ یوکرین کو زیرِ کنٹرول علاقوں سے دستبردار ہونا ہوگا۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے ڈونباس کو آزاد اقتصادی زون
بنانے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر روس اپنی افواج واپس بلاتا ہے تو یوکرین بھی ڈونباس سے فوجی دستے نکالنے پر تیار ہے اور اس علاقے کو بین الاقوامی نگرانی میں غیر فوجی زون بنایا جا سکتا ہے۔
یوں یہ ملاقات امن کی طرف کچھ پیش رفت ضرور لائی، لیکن ڈونباس کے
مستقبل پر اختلافات برقرار ہیں۔
