بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کہاں تیار کی گئی؟ کس کو کیا ذمہ داری دی گئی؟

رحمان ملک کے انکشافات ایک بار پھر ملاحضہ فرمائیں
فروری 2012میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے بے نظیر بھٹو کے قتل سے متعلق تحقیقات پر سندھ اسمبلی میں دی گئی بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو کا قتل القاعدہ کے رکن بیت اللہ محسود اور ابو عبید المصری کی سازش کا نتیجہ تھا۔ سازش جنوبی وزیرستان میں مکین کے مقام پر تیار کی گئی تھی۔
رحمان ملک نے سندھ اسمبلی میں بے نظیر بھٹو قتل سے متعلق تحقیقات ایوان کے روبرو پیش کیں جو کئی گھنٹوں پر محیط تھیں۔ ان کے بعد بے نظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ خالد قریشی نے بھی ایوان کوقتل سے متعلق مزید بریفنگ دی۔
سندھ اسمبلی میں ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں ارکان نے وفاقی حکومت سے بے نظیر بھٹو قتل کیس سے متعلق تحقیقات سے ایوان کوا ٓگاہ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
تحقیقاتی بریفنگ کے دوران رحمان ملک نے اپنے دعویٰ کے ثبوت کے طور پر سندھ اسمبلی کے ارکان کے سامنے ویڈیوز، تصاویر اور مختلف چارٹس بھی پیش کئے اور بتایا کہ قتل کی سازش بیت اللہ محسود اور القاعدہ کے دہشت گرد ابوعبیدہ المصری نے تیار کی تھی ۔ ویڈیو میں مذکورہ دونوں افراد کو ایک ساتھ نماز پڑھتے اور بعد ازاں ہدایات لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔
بریفنگ کے دوران بینظیربھٹو پر حملے سے پہلے کی ویڈیو بھی دکھائی گئی، بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر بیت اللہ محسود اور مولوی صاحب کی گفتگو کا متن بھی دکھایا گیا جس میں انہوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔
بریفنگ کے دوران اسکرین پر رپورٹ کے کچھ حصے کی نقل اور ملزمان کے اقبالی بیانات سمیت مختلف دستاویزات دکھائی گئیں۔
دوسری جانب بے سندھ اسمبلی میں بریفنگ کے دوران نظیر بھٹو قتل کیس کے تفتیشی افسر خالد قریشی نے بتایا تھا کہ قاری حسین نامی القاعدہ کے ٹرینر نے بمبار تیار کئے جبکہ ایک اور شخص قاری اسماعیل نے جیکٹس فراہم کیں۔
خالد قریشی کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو وطن واپسی پر خطرات کا سامنا تھا۔ طالبان اور مشرف محترمہ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے، بینظیربھٹو کو قتل کرنے کیلئے کالعدم تحریک طالبان کے جھنڈے تلے 27 دہشت گرد گروپ منظم ہوئے، جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں منصوبہ بندی کی گئی۔ منصوبہ ساز اور رقم فراہم کرنے والے کا تعلق فاٹا سے ہے۔ قاری حسین جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کا ٹرینرتھا اور اسی نے درجنوں خودکش بمبار تیار کئے۔ الیاس کشمیری اور میجر ہارون بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بے نظیر بھٹو پر حملے کے بعد بیت اللہ محسود اورمولوی صاحب کی بات چیت ریکارڈ ہوئی۔ یہ گفتگو پشتو میں کی گئی جس میں بیت اللہ محسود کہتا ہے کہ ہمارے لوگ تھے، بیت اللہ محسود نے ٹیلی فونک گفتگو میں مبارکباد بھی دی۔ مولوی صاحب نے جواب میں بتایا کہ لڑکے دلیر تھے، آکرسب بتاوٴں گا۔
خالد قریشی نے بریفنگ میں بتایا تھا کہ مولوی صاحب کی شخصیت ابھی تک پراسرار ہے، ممکنہ طور پر مولوی صاحب کا نام مولوی انور ہے۔
خالد قریشی کے مطابق قاری اسماعیل نے بمباروں کو جیکٹس فراہم کیں، خودکش بمباروں بلال اور قاضی کو ایک اور شخص نصراللہ نے راولپنڈی پہنچایا، رفاقت خودکش بمباروں کو راولپنڈی تک لے کرگیا، بمباروں کو پیرودھائی سے لیاقت باغ پہنچایا گیا، ان کے پاس پستول اور دستی بم بھی تھے جو موبائل فون نصراللہ اور عبادالرحمن استعمال کررہے تھے، اسی نمبر سے کراچی سے اغوا ہونے والے فلمساز ستیش آنند کے گھر والوں کو تاوان کی کال آئی تھی۔ اور ایک سال بعد وہی سم استعمال کرنے سے ملزمان کا پتہ چلا۔
خالد قریشی کے مطابق راولپنڈی پولیس نے اعتزاز، قاری حسین شاہ ، رشید ترابی کو گرفتار کیا، جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے ان افراد نے اقرار جرم کیا۔ خالد قریشی نے بتایا کہ ایک موبائل فون صرف ایک آپریشن میں استعمال کیا جاتا تھا جو کسی دہشت گرد کے نام پر نہیں ہوتا تھا۔ بینظیربھٹو کے قتل کے کچھ ماہ بعد عبادالرحمن نے ٹیکسلا میں شادی کی۔
خالد قریشی نے بتایا کہ نوجوان لڑکوں کو خودکش حملوں کے لئے تیارکیا جاتا تھا، رشیداحمد ترابی زیادہ پڑھا لکھا تھا اور وہ کامرہ حملے میں بھی ملوث تھا۔
خالدقریشی کے مطابق حسین گل کو خودکش حملے کے لیے راضی کیا گیا۔ کیس میں نصراللہ نامی شخص بھی شامل ہے۔
خالد قریشی کے مطابق بے نظیربھٹو کی موت سر میں شدید چوٹ لگنے سے ہوئی۔ بے نظیربھٹو کو سر کے اطراف دو چوٹیں لگیں۔
رحمان ملک نے ایوان کو بتایا کہ پرویزمشرف نے مذاکرات کے دوران بینظیربھٹو سے کہا تھا کہ انتخابات سے پہلے پاکستان نہ آئیں۔ اس پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ یہ فیصلہ وہ خود کریں گی۔
رحمان ملک کے مطابق بینظیر بھٹو کی طرف سے پاکستان نہ آنے کی بات نہ ماننے پر پرویزمشرف نے دھمکی دی تھی کہ واپسی پر نتائج کی ذمہ دار وہ خود ہوں گی۔
رحمان ملک نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو طویل عرصے سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ نوازشریف کے دور میں سیف الرحمان کی طرف سے جھوٹے مقدمات درج کرائے جانے کا سلسلہ پرویز مشرف کے دور میں بھی جاری رہا۔ تاہم محترمہ بینظیربھٹو نے تمام زیادتیوں کے باوجود مفاہمت کا فیصلہ کیا۔
