جرمنی میں کم تنخواہ پر کام کرنے والوں کی تعداد 63 لاکھ تک پہنچ گئی

شماریاتی ادارے نے اعداد و شمار جاری کردیے
جرمنی میں تقریباً 63 لاکھ لوگ ایسے ہیں جو کم از کم اجرت یا اس کے قریب ترین اجرت پر کام کر رہے ہیں۔ یہ تعداد ملک کے کل روزگار کا تقریباً 16 فیصد ہے، جو پچھلے سال 2024 کے برابر رہی۔
2014 میں کم اجرت پر کام کرنے والوں کا تناسب 21 فیصد تھا۔ لیکن 2022 اور 2023 میں کم از کم اجرت بڑھنے کے بعد یہ شرح کم ہو کر 16 فیصد تک آ گئی۔ یعنی کم اجرت والے ملازمین کی تعداد میں وقت کے ساتھ کمی آئی ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر ریٹیل، ہوٹل، ریستوران اور سروسز کے شعبوں میں ملازمت کرتے ہیں۔
جرمنی میں کم از کم اجرت کا تعین اوسط فی گھنٹہ اجرت کے دو تہائی کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ تربیت حاصل کرنے والے ملازمین (ٹرینیز) کو اس حساب میں شامل نہیں کیا جاتا۔ اپریل 2025 میں یہ حد 14.32 یورو فی گھنٹہ رہی، جبکہ اپریل 2024 میں یہ 13.79 یورو تھی۔
موجودہ قانونی کم از کم اجرت 12.82 یورو فی گھنٹہ ہے۔ یہ 2026 کے آغاز میں بڑھ کر 13.90 یورو فی گھنٹہ ہو جائے گی۔
ماہرین اور پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت بڑھنے سے لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور اجرتوں میں فرق بھی کم ہوا ہے۔
جرمنی کے اقتصادی و سماجی سائنس انسٹیٹیوٹ (WSI) کی محقق ڈوروتھی اشپان ناگل کے مطابق"کم از کم اجرت کے نفاذ نے نہ صرف آمدنی بڑھائی بلکہ اجرتوں میں عدم مساوات بھی کم کی۔
پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کم از کم اجرت محنت کش طبقے کو سہارا دے رہی ہے، لیکن کاروباری حلقے اسے پیداواری لاگت میں اضافے کا چیلنج سمجھتے ہیں۔
