کراچی کا سیف سٹی منصوبہ ناکام، رواں برس 80ہزا سے زائد گاڑیاں چھینی اور چوری کی گئیں

40ہزار سے زائد جدید کیمروں کا کیا فائدہ؟
حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کی عوام کو تحفظ دینے کے لیے شہر میں سیف سٹی منصوبہ بنایا گیا تھا، اس مقصد کیلئے شہر بھر میں ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی کیمرے نصب کیے گئے لیکن اس کے باوجود گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھیننے اور چوری ہونے کے واقعات کم نہ ہو سکے۔
اعداد شمار کے مطابق رواں برس نومبر تک شہر میں 1,955 گاڑیاں اور 41,324 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری ہو چکی ہیں۔ مجموعی طور پر 6,357 گاڑیاں و موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ 36,922 چوری کی وارداتیں ہوئیں۔
شہر کراچی میں گھروں کے باہر کھڑی گاڑیاں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ متعدد مقامات سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آ چکی ہیں۔
لیاقت آباد میں گھر کے باہر کھڑی سوزوکی کو ایک شخص دھکا لگا کر آگے لے جاتا ہے اور پھر گاڑی اسٹارٹ کرکے چلا جاتا ہے۔ بلوچ کالونی میں بھی حالیہ دنوں میں کار چوری کی دو وارداتوں کی فوٹیجز سامنے آئیں، جبکہ پی آئی بی کالونی سے ایک موٹر سائیکل باآسانی لاک توڑ کر لے جائی گئی۔
سعود آباد میں ملزمان گھر کے باہر کھڑی دو گاڑیوں کے ٹائر اتار کر فرار ہو گئے۔ ان تمام واقعات کے باوجود سیف سٹی، ای چالان کیمروں اور دیگر نگرانی کے نظام کا جال بچھا ہونے کے باوجود جرائم کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل آئی جی سندھ نے دعویٰ کیا تھا کہ 2019 سے اب تک شہر میں 40 ہزار سے زائد جدید کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن کی بدولت سکیورٹی نیٹ ورک مضبوط ہوا ہے، اور 1.4 بلین روپے کے اسمارٹ آئی ٹی پراجیکٹ نے اہم مقامات پر مؤثر نگرانی فراہم کی ہے۔
