نیشنل
افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
EditorStaff Reporter
Nov 29, 2025

رواں سال ملک میں مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے رواں سال ملک میں مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے، خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، ان آپریشنز کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ باررڈر مینجمنٹ پر سکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلو میٹر پر محیط ہے جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان سرحد پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلو میٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے، پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورتحال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک ملکر کرتے ہیں، اس کے برعکس، افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، اگر افغان بارڈر سے متصل علاقے دیکھیں تو مشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے، سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا اگر سرحد پار سے دہشتگردوں کی تشکیلیں، اسمگلنگ یا تجارت ہو تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
