انٹرنیشنل
آٹو پین سے دستخط شدہ بائیڈن کے تمام صدارتی آرڈرز منسوخ کرنیکا اعلان
EditorStaff Reporter
Nov 29, 2025

ٹرمپ کے غیرمعمولی اعلان نے ہلچل مچادی
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی اعلان کرتے ہوئے سابق صدر جو بائیڈن کے اُن تمام ایگزیکٹو آرڈرز کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن پر بائیڈن نے آٹو پین Autopen کے ذریعے دستخط کیے تھے۔
یہ خودکار الیکٹرانک آلہ صدور کے دستخط نقل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ ذاتی طور پر کسی دستاویز پر دستخط کرنے کے لیے موجود نہ ہوں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ بائیڈن کے تقریباً 92 فیصد ایگزیکٹو آرڈرز آٹو پین سے دستخط کیے گئے، اور چونکہ ان فیصلوں پر "براہ راست صدارتی دستخط موجود نہیں تھے"، اس لیے وہ انہیں بے اثر قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ اگر بائیڈن یہ دعویٰ کریں کہ وہ خود ان دستاویزات کی منظوری میں شامل تھے تو ان پر "حلف شکنی" Perjury کے الزامات بھی عائد ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس فیصلے نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق آٹو پین کا استعمال گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور مختلف صدور معمول کے انتظامی کاموں کے لیے اس طریقے سے دستخط کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹو پین کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دینا نہ صرف قانونی پیچیدگی پیدا کرتا ہے بلکہ آئینی اختیارات کے توازن کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
ماہرین کے خیال میں کسی صدارتی آرڈر کی قانونی حیثیت صرف دستخط کے طریقے سے باطل قرار نہیں دی جاسکتی، جب تک اس کی منظوری صدر نے خود نہ دی ہو۔
بائیڈن کے قریبی حلقوں نے اس اعلان کو "سیاسی تماشہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ محض اپنے مخالف کی پالیسیوں کو ختم کرنے کے لیے غیر معمولی اور مبالغہ آرائی پر مبنی حربے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بائیڈن نے صدارتی مدت کے دوران تمام فیصلے ذاتی منظوری کے بعد جاری کیے تھے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آنے والے دنوں میں عدالتوں میں چیلنج ہو سکتا ہے، اور اگر ٹرمپ اپنی پالیسی پر قائم رہے تو سرکاری اداروں میں انتظامی خلل پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
