ڈیم بنانے کے لیے پانی کی قلت کا واویلا کیا جاتا ہے،آبی ماہرین

فنی نمائش، مختلف اشیا کے اسٹال بھی لگائے گئے
جامشورو میں ایم ایچ پنهور انسٹیٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیز کی جانب سے ایک روزہ "پانی میلہ" کا انعقاد کیا گیا، جس کا افتتاح حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے سر "سارنگ" سے کیا گیا۔ نوجوان راگی انو سولنگی نے بھٹائی کا بیت پیش کر کے روحانی ماحول پیدا کیا۔
میلے میں ملک بھر سے آئے ہوئے پانی کے ماہرین نے مختلف سیشنز میں پانی سے متعلق تحقیقی مقالے پیش کیے۔ مرکزی نشست "پانی کا قدر، احساس اور مان" کے عنوان سے ہوئی، جس کی صدارت ڈاکٹر بھائی خان شر اور نرنجن راجاڻي نے کی۔ مہمانوں میں معروف صحافی وسعت اللہ خان، نصیر میمن، سنی پنهور اور دیگر شامل تھے۔
وسعت اللہ خان نے کہا کہ پانی کی قلت کا اصل سبب ناقص حکمرانی ہے، نہ کہ معلومات کی کمی۔ اگر حکمرانی بہتر ہو تو عام لوگ بھی اچھے فیصلے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے دریاؤں اور جھیلوں کو "شخص" قرار دینے اور ان کے قاتلوں کو انسان کے قاتلوں جیسی سزا دینے کی تجویز دی۔
نصیر میمن نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے پانی کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ ہمارے حکمران نااہل ہیں، جو غیر ضروری ڈیم بنانے پر زور دے رہے ہیں۔ نرنجن راجاڻي نے کہا کہ پانی میلہ کا مقصد عوام میں شعور پیدا کرنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں بحران سے بچ سکیں۔
دیگر سیشنز میں زرعی پانی، شہری و میونسپل استعمال، آلودگی اور سندھ دریا کی حالت پر گفتگو ہوئی۔ مقررین میں عمر کریم، ڈاکٹر تنویر گاڈہی، ڈاکٹر نجمه میمن، ڈاکٹر ضیاءالدین ابڑو، عبدالفتاح داهری، فهیم زمان، ڈاکٹر محمد یار خاور، افضل بروهی، ڈاکٹر حلیم مگسی، ناصر پنهور، اور دیگر شامل تھے۔

نشستوں میں پانی کے وسائل—دریا، جھیلیں، بارش، زیر زمین پانی اور سمندر—کے احترام، سائنسی حل، اور بہتر استعمال پر زور دیا گیا۔ سوال و جواب کے سیشنز بھی ہوئے۔
پروگرام کا اختتام "ستیہ تھیٹر" کے اسٹیج ڈرامے سے ہوا، جس کا موضوع بھی پانی تھا۔ راگ رنگ کی محفل میں استاد امیر علی خان، جانب سومرو، شہزاد خاصخیلی، ماروی اور دیگر فنکاروں نے پرفارم کیا۔
فنی نمائش میں عبدالمالک چنا نے سندھ کی ثقافت کو ریت کے ذریعے اجاگر کیا۔ سندھ یونیورسٹی اور شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی کے طلبہ کی پانی سے متعلق تصویریں بھی نمائش کا حصہ تھیں۔ بچوں کے لیے لائیو آرٹ مقابلے بھی ہوئے۔
کتابوں، کھانوں، سائنس، کھیل اور تفریح کے اسٹالز لگائے گئے۔ کتابی میلے میں تاریخ، ادب، مذہب، سیاست، ثقافت، سائنس اور آرٹ پر مبنی کتابیں رکھی گئیں، جہاں خریداروں کا رش رہا۔
مقالہ نگاروں اور مقررین کو ایم ایچ پنهور انسٹیٹیوٹ کی جانب سے شائع شدہ کتابیں بطور تحفہ دی گئیں۔ دانشور جامی چانڈیو، غلام نبی مورائی، نفیس احمد ناشاد، ادریس جتوئی، مہییش کمار، آغا رفیق، ڈاکٹر رشیدہ پٹھی، نور بالادی، موہن مکوانا، اور دیگر سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
