انسان اور خلائی مخلوق میں رابطہ کب تک ممکن؟ معروف سائنس دان نے پیش گوئی کردی

برطانیہ کی معروف خلائی سائنسدان اور نشریاتی ادارے کی میزبان ڈیم میگی ایڈرین پوک کا کہنا ہے کہ آئندہ نصف صدی میں انسان غیر زمینی حیات کے وجود کی تصدیق کر سکے گا۔
اُن کے مطابق سن 2075ء تک سائنسدان اس قابل ہو جائیں گے کہ زمین سے باہر زندگی کی واضح نشاندہی کر سکیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ابتدائی دریافتیں کسی ذہین یا انسان نما مخلوق کی نہیں بلکہ نہایت سادہ اور خردبینی جانداروں کی شکل میں ہوں گی۔ اُنہوں نے اس ممکنہ خلائی حیات کو فلمی کرداروں کے بجائے "گرے سلج" یعنی ایک قسم کے سادہ مادے سے تشبیہ دی۔
ڈیم میگی کا کہنا ہے کہ کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا مشکل ہے کہ زندگی صرف زمین تک محدود ہو۔ صرف ہماری کہکشاں میں تقریباً 300 ارب ستارے ہیں اور اب یہ بھی
معلوم ہو چکا ہے کہ ان میں سے بیشتر کے گرد سیارے گردش کر رہے ہیں، جس سے زندگی کے امکانات بے شمار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے حالیہ سائنسی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سیارے K2-18b کے ماحول میں ایسے کیمیائی اجزا ملے ہیں جو عام طور پر
حیاتیاتی عمل کے بغیر موجود نہیں ہوتے اور یہ دریافت وہاں زندگی کے امکان کو مزید تقویت دیتی ہے۔
مزید یہ کہ ناسا نے 2025ء میں مریخ پر ماضی کی زندگی کے مضبوط شواہد پیش کیے تھے، جس نے سائنسدانوں کے اس یقین کو مزید بڑھا دیا ہے کہ انسان کائنات میں تنہا نہیں ہے۔
