اٹلی میں 210 ملین سال پرانے ڈائناسور کے قدموں کے نشانات دریافت

ڈائنوسار نرم مٹی پر چلتے تھے
روم:اٹلی کے شمالی حصے میں واقع سٹیلّوو نیشنل پارک میں سائنس دانوں نے تقریباً 210 ملین سال پرانے ہزاروں ڈائناسور کے قدموں کے نشانات دریافت کیے ہیں، جو دنیا کے سب سے بڑے اور قدیم آثارِ قدیمہ میں سے ایک ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نشانات پانچ کلومیٹر پر پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے کچھ نشانات 40 سینٹی میٹر چوڑے ہیں اور سائنس دانوں نے ان کے پروساؤروپڈز نامی گھاس خور ڈائناسوروں کے گروہوں سے تعلق کا اندازہ لگایا ہے، جن کے لمبے گردن، چھوٹا سر اور تیز پنجے تھے۔
پيلیئنٹولوجسٹ کرسٹیانو ڈیل ساسو نے اس دریافت کو بے مثال قرار دیا اور کہا کہ یہ اٹلی میں سب سے بڑے اور قدیم قدموں کے نشانات میں سے ایک ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ قدم ٹریاسک دور (تقریباً 210 ملین سال قبل) کے ہیں، جب یہ علاقہ سمندری کنارے ہوا کرتا تھا اور ڈائناسور نرم مٹی پر چلتے تھے، جس کے نقش بعد میں پتھر پر نقوش چھوڑ گئے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ یہ نشانات ڈائناسوروں کے سماجی رویے کی جھلکیاں بھی فراہم کرتے ہیں، جیسے گروہوں میں حرکت کرنا یا دفاعی انداز اختیار کرنا شامل ہے،چونکہ یہ جگہ پہاڑی اور مشکل رسائی والی ہے، اس لیے مزید تحقیق کے لیے ڈرون اور جدید سینسنگ ٹیکنالوجیز استعمال کی جائیں گی۔
