سانپ اور محکمہ لائیو اسٹاک سندھ عوام کو ڈستے رہے،ویکسین تیار نہ ہو سکی

سندھ میں کتنی اقسام کے سانپ ہیں؟
کراچی: سندھ میں 2012 سے سانپ کے کاٹنے سے بچاؤ کی ویکسین تیار نہ ہوسکی، دو کروڑ 80 لاکھ روپے کی اسکیم کے باوجود ویکسین کی تیاری تاحال تعطل کا شکارہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2012 سے 2023 تک منصوبے پر ایک کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ سندھ میں سالانہ سانپ کے کاٹنے کے 54 ہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں ہے۔ ویکیسن کہاں سے آتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق 2024 میں یہ منصوبہ محکمہ صحت سے محکمہ لائیو اسٹاک کو منتقل کردیا گیا، تاہم محکمہ لائیو اسٹاک کو ویکسین کی تیاری کے لیے 350 ملین روپے جاری کیے گئے، لیکن 2024 سے 2025 تک ویکسین کی ایک بھی خوراک تیار نہیں ہوسکی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جرمنی، سوئٹزرلینڈ، امریکا سے مشینری خریدنے کے لیے 3 سو ملین کا ٹینڈر منظور ہوا تھا، جس کے تحت ویکسین کی تیاری کے لیے جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور امریکا سے مشینری منگوائی جارہی ہے۔ محکمہ لائیو اسٹاک کا دعویٰ ہے کہ ایک سال کے اندر اینٹی سنیک وینم تیار کرلی جائے گی۔ سندھ میں کتنی اقسام کے سانپ ہیں؟ لائیو اسٹاک حکام کے مطابق سندھ میں 55 اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں، جن میں سے 13 اقسام زہریلے جبکہ 7 انتہائی موتمار سانپوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ سالانہ 500 سے "100" افراد سانپ کے کاٹنے سے جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ ملک میں صرف این آئی ایچ اسلام آباد اینٹی سنیک وینم تیار کر رہا ہے۔
