سندھ سولر انرجی میگا پراجیٹ میں 3 ارب کے فراڈ کا انکشاف، انکوائری کا حکم

کنٹریکٹنگ فرم کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش
کراچی: سندھ سولر انرجی میگا منصوبے میں 3 ارب روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، سندھ کابینا نے کنٹریکٹنگ فرم کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کردی۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت سندھ کابینا کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے، سندھ سولر انرجی پروجیکٹ 27.4 بلین روپے کا منصوبہ ہے۔
کابینا اجلاس میں انکشاف ہوا کہ سولر انرجی پروجیکٹ میں 3 ارب روپے کا فراڈ ہوا ہے، جس کے بعد سندھ کابینہ نے کنٹریکٹنگ فرم کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کردی، جبکہ سندھ سولر انرجی پروجیکٹ میں ہونے والے فراڈ کی انکوائری اینٹی کرپشن کو بھیجنے کی ہدایت کی ہے۔
کابینا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ غریب گھرانوں کے لیے آف گرڈ اور آن گرڈ سولر کٹس کی فراہمی کا منصوبہ جاری ہے، سولر ہوم سسٹم منصوبہ کی لاگت 18.8 ارب روپے ہے ، 2 لاکھ 50 ہزار سولر ہوم سسٹم کٹس فراہم کی جائیں گی، جبکہ ایک لاکھ 20 ہزار کٹس تھر، کوہستان اور کچے کے علاقوں کے آف گرڈ گھرانوں کے لیے ہوں گی، ایک لاکھ 30 ہزار کٹس آن گرڈ مستحق صارفین (0 تا 100 یونٹ) کو دی جائیں گی، ہر کٹ میں سولر پینل، بیٹری، ایل ای ڈی لائٹس، ڈی سی فین اور موبائل چارجنگ کی سہولت شامل ہوگی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ تمام کٹس غریب گھرانوں کو مفت فراہم کی جائیں گی۔
