سندھ یونیورسٹی جام شورو میں پرفیسرکو عمارت میں بند کردیا گیا

پروفیسر ظفر اور عرفانہ ملاح کے ایک دوسرے پر الزام
جامشورو: یونیورسٹی آف سندھ جامشورو میں دو پروفیسرز آمنے سامنے۔ ایک پروفیسر کو کیمسٹری شعبے میں مبینا طور پر بند کردیا گیا۔ کیمسٹری شعبہ کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر ابوپوٹو کو بند کردیا گیا۔ شعبے کا عملہ گیٹ کو مبینا طور پر تالے لگا کر چلا گیا، پروفیسر کئی گھنٹے کے شعبہ کے اندر بند رہا۔ اطلاع ملنے پر ساتھی پروفیسرز نے وائس چانسلر سے رابطہ کیا اور گیٹ کھلوار کر پروفیسر کو باہر نکالا۔ تاہم طلبہ بھی پہنچ گئے۔
پروفیسر کا الزام
پروفیسر ڈاکٹر ظفر ابوپوٹو نے کہا ہے کہ دوپہر کے سوا تین ہوئے تھے تو عملہ آیا اور کہا میں شعبے سے باہر چلا جائوں، جس پر میں نے منع کیا اور کہا کہ کچھ کام کرنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عرفانہ ملاح نے کیمسٹری شعبے تک میری رسائی بند کردی تھی اور عملے کو ہدایات دیں کہ مجھے تین بجے کے بعد شعبے میں بیٹھنے نہ دیا جائے۔ پروفیسر کے مطابق عملے نے گیٹ بند کرنے کے بعد انٹرنیٹ اور بجلی بھی بند کردی۔ وائس چانسلر اس پورے واقعے سے لاعلم تھے، میں نے انہیں فون پر آگاہ کیا۔ عرفانہ ملاح کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے اور یونیورسٹی کے ساتھ کیا کر رہی ہیں۔ کام کہ جگہ پر ذہنی سکون ضروری ہے، لیکن کئی ماہ سے میں عرفانہ ملاح کے ذہنی ٹارچر کو برداشت کر رہا ہوں۔
پروفیسر عرفانہ ملاح کا ردعمل
پروفیسر عرفانہ ملاح نے اس پورے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانفرنس کے سلسلے میں کراچی میں موجود تھیں، اس لیے وہ لاعلم ہیں کہ کیمسٹری شعبہ میں کیا واقعہ رونما ہوا۔ رابطہ کرنے پر شعبے کے چوکیدار نے بتایا کہ پروفیسر ظفر خود باہر جانے سے منع کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود عملے کو گھر جانے کے لیے کہا تھا۔
