بھارت: سرکاری تقریب میں بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی مسلمان خاتون سے بدسلوکی، نقاب کھینچ لیا

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد نتیش کمار تنقید کی زد میں
بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات میں ایک اور افسوسناک اضافہ اس وقت ہوا جب بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے ایک سرکاری تقریب میں مسلمان خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب کھینچ دیا۔
یہ واقعہ پٹنہ میں وزارتِ آیوش کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں پیش آیا، جہاں آیوش ڈاکٹروں کو تقرر نامے دیے جا رہے تھے۔ تقریب میں جب نصرت پروین کی باری آئی، جو مکمل برقعے میں ملبوس تھیں اور چہرے پر نقاب تھا، تو نتیش کمار نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سوال کیا "یہ کیا ہے؟" اور پھر انہوں نے خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ دیا، جس سے خاتون شدید پریشان ہو گئیں۔
اس موقع پر نائب وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چوہدری نے نتیش کمار کو روکنے کی کوشش کی، مگر واقعہ ہو چکا تھا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھارت بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے نتیش کمار کے اس عمل کو اسلاموفوبیا اور خواتین کی عزت کی پامالی قرار دیا۔
اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور خواتین کی عزت کے خلاف ہے۔
کئی سیاسی رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیرِ اعلیٰ جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کو عوامی مقام پر اس طرح کا رویہ زیب دیتا ہے؟
واضح رہے کہ بھارت میں نقاب یا حجاب پر کوئی سرکاری پابندی نہیں، اور خواتین کو مذہبی لباس پہننے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق نتیش کمار کا یہ عمل ذاتی آزادی اور مذہبی شناخت کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس واقعے کو خواتین کی عزت نفس پر حملہ قرار دیا ہے۔
