کچھ سال بعد یہ تو نہیں کہیں گے کہ اب عمران سکیورٹی تھریٹ نہیں؟ صحافی کا تیکھا سوال، DG ISPRنے کیا کہا؟

’فاطمہ جناح، بھٹو کو بھی غدار قرار دیا گیا‘
سینئر صحافی منصور علی خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری سے سوال پوچھا کہ آپ نے پوری پریس کانفرنس میں عمران خان کا نام نہیں لیا، آپ نے ان کو سکیورٹی تھریٹ قرار دیا، آپ نے ان کے لیے اور بھی الفاظ کہے لیکن پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو فاطمہ جناح سے لیکر بے نظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف، مریم نواز، ان سب کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی موقع پر سکیورٹی تھریٹ اور غدا قرار دیا جا چکا ہے۔
اپنے سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے منصور علی خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو یاد دلایا کہ آج سے ٹھیک سات آٹھ سال پہلے یہیں کھڑے ہوکر ایسا بیانیہ بنایا جاتا تھا جس شخص کو آج سب سے زیادہ سکیورٹی تھریٹ قرار دیا جا رہا ہے، شاید وہی اس وقت اس ملک کے لیے سب سے بہتر لیڈر تھا۔
منصور علی خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے مخاطب ہوکر کہا کہ کیا کیا آج کے بیانیے سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریاست نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ No more، یا پھر آج سے پانچ یا آٹھ سال بعد تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دوہرائے گی اور کہا جائے گا کہ نہیں سال 2025 (یعنی آج)میں کی گئی پریس کانفرنس غلط تھی، عمران خان اب سکیورٹی تھریٹ نہیں ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے تحمل کے ساتھ یہ سوال سنا اور پھر اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کی تاریخ کو دیکھیں تو کبھی پاکستان کی فوج نے پہلے اتنے واضح طریقے سے کسی بھی شخص کہ بارے میں یہ بیانیہ نہیں بنایا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ ہم نے پہلے کسی اور شخصیت کے بارے میں مثالوں اور ثبوت کے ساتھ یہ نہیں کہا کہ یہ شخص یہ کام کر رہا ہے، وہ کام کر رہا ہے، تو ہم نے پہلے اس طرح کی باتیں کبھی نہیں کیں۔
ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہ واضح طور پر بتانا پڑے گا کہ یہ جو بیانیہ چلا رہا ہے یہ کون ہے؟ اور یہ جو کام کر رہے ہے، آپ نے جن شخصیات کے نام لیے ان میں سے کسی نے بھی یہ کام نہیں کیا۔
