روس-یوکرین جنگ، ٹرمپ کی امن کوششوں پر یورپ کو تشویش کیوں؟ وجوہات سامنے آگئیں

امن معاہدہ یورپ کو کیسے خطرے میں ڈال سکتا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین جنگ ختم کرنے کی تازہ کوششوں نے یورپ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں روس کو سزا نہ دینا یا کمزور نہ کرنا یورپ کی سلامتی کو مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
یورپی حکام کو اندیشہ ہے کہ واشنگٹن ماسکو کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھا سکتا ہے، حالانکہ نیٹو اور بیشتر یورپی حکومتیں روس کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی ہیں۔ اگرچہ یوکرینی اور یورپی نمائندے امریکی 28 نکاتی امن منصوبے کے بعض حصوں کو روکنے میں کامیاب ہوئے جو روس کے حق میں سمجھا جا رہا تھا، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے یورپ کے لیے بڑے خطرات ہوں گے۔
یورپ کے پاس معاہدے پر اثر انداز ہونے کی محدود صلاحیت ہے کیونکہ اس کے پاس عسکری طاقت نہیں ہے۔ یورپی نمائندے امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان فلوریڈا میں ہونے والی بات چیت میں شامل نہیں تھے اور اب صرف دور سے دیکھ سکیں گے جب امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔
برسلز انسٹیٹیوٹ فار جیوپالیٹکس کے بانی لوک فان میڈلار نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ کسی وقت ایک ناخوشگوار معاہدہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ ٹرمپ واضح طور پر ایک معاہدہ چاہتے ہیں۔ جو یورپیوں کے لیے بہت غیر آرام دہ ہے وہ یہ ہے کہ ٹرمپ اسے بڑی طاقتوں کی منطق کے مطابق چاہتے ہیں کہ ہم امریکا ہیں، وہ روس ہیں، ہم بڑی طاقتیں ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ یورپی ممالک کو نیٹو اور یورپی یونین کے کردار پر بات چیت میں شامل کیا جائے گا۔ تاہم یورپی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تقریباً ہر پہلو کا براہِ راست اثر یورپ پر پڑے گا، چاہے وہ علاقائی رعایتیں ہوں یا امریکا اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون۔
اس اقدام نے نیٹو کے حوالے سے امریکا کے عزم پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جرمن وزیر دفاع بورس پستوریئس نے کہا کہ یورپی اب نہیں جانتے کہ مستقبل میں کون سے اتحاد قابلِ اعتماد رہیں گے۔
اگرچہ ٹرمپ نے جون میں نیٹو کے آرٹیکل 5 دفاعی شق کی توثیق کی تھی، لیکن روبیو کا نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنا یورپی خدشات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفول نے خبردار کیا کہ روس کم از کم 2029 تک نیٹو کے خلاف جنگ کا آپشن کھلا رکھے ہوئے ہے۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی اشارہ نہیں ملا کہ پوتن یوکرین پر حملہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو یورپ کو خدشہ ہے کہ یوکرین کی علاقائی سالمیت کا احترام نہ کرنے والا کوئی بھی معاہدہ روس کو مزید جارحیت پر آمادہ کر سکتا ہے۔
