سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
کائنات میں ایک اور زمین بھی ہے !! سائندانوں نے کھوج لگا لیا
StaffStaff Reporter
Nov 24, 2025

ماہرینِ فلکیات نے ایک قریبی "سپر ارتھ" دریافت کیا ہے جو اپنے ستارے کے قابلِ رہائش خطے (Habitable Zone) میں گردش کر رہا ہے۔ اس دریافت نے یہ امیدیں بڑھا دی ہیں کہ اس سیارے پر مائع پانی موجود ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر زندگی بھی۔ اس سیارے کا نام GJ 251 c رکھا گیا ہے، جو زمین سے صرف 18 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، اور مستقبل کی تحقیق کے لیے سب سے زیادہ امید افزا اہداف میں شمار ہوتا ہے۔
نومبر 2025 میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اِروائن کے محققین نے بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مل کر ایک پتھریلے سیارے (Rocky Exoplanet) کی نشاندہی کی جو ایک ایم-ڈوارف (M-dwarf) ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے۔ یہ سیارہ GJ 251 c "سپر ارتھ" کہلایا کیونکہ یہ زمین سے تقریباً چار گنا زیادہ وزنی ہے لیکن اس کی ساخت زمین جیسی پتھریلی ہے۔ اس کا مدار بالکل قابلِ رہائش خطے میں ہے، یعنی وہ علاقہ جہاں درجہ حرارت مائع پانی کے وجود کے لیے موزوں ہوتا ہے۔
مائع پانی کو زندگی کے لیے سب سے بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ GJ 251 c پر پانی کے امکانات اسے غیر زمینی زندگی کی تلاش میں ایک اہم امیدوار بناتے ہیں۔
اس دریافت کی اہمیت
یہ دریافت کئی وجوہات کی بنا پر غیر معمولی ہے:
قربت: صرف 18 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ سیارہ کائناتی پیمانے پر قریب ہے اور مستقبل کے جدید دوربینوں سے اس کا مطالعہ آسان ہوگا۔
ساخت: ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیارہ پتھریلا ہے، گیسوں پر مشتمل نہیں، جس سے اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ اس کی سطح پر پانی جمع ہو سکتا ہے۔
ممکنہ ماحول: اگرچہ ابھی تصدیق نہیں ہوئی، لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس سیارے کا ماحول سطح کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔
مستقبل میں بننے والی بڑی دوربینیں، جیسے ایکسٹریملی لارج ٹیلی اسکوپ (ELT) اور ناسا کے نئے مشنز، ممکنہ طور پر اس سیارے کی براہِ راست تصویر لے سکیں گے، جو موجودہ ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں۔
میزبان ستارہ
GJ 251 c ایک ایم-ڈوارف ستارے کے گرد گردش کرتا ہے۔ یہ چھوٹے اور ٹھنڈے ستارے کہکشاں میں عام ہیں اور اکثر سیاروں کی میزبانی کرتے ہیں۔ تاہم ان کی قابلِ رہائش صلاحیت پر بحث جاری ہے کیونکہ یہ طاقتور شعاعی دھماکے (stellar flares) خارج کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے، یہ مخصوص ستارہ نسبتاً مستحکم ہے، جس سے امید بڑھتی ہے کہ GJ 251 c پر زندگی کے لیے حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔
زندگی کی تلاش پر اثرات
GJ 251 c کی دریافت ممکنہ طور پر قابلِ رہائش سیاروں کی فہرست میں ایک اہم اضافہ ہے۔ سائنس دان خاص طور پر پرجوش ہیں کیونکہ اس کا وزن، فاصلہ اور مدار اسے فضائیاتی مطالعات کے لیے بہترین امیدوار بناتے ہیں۔ اس کے ماحول کا تجزیہ کر کے محققین امید رکھتے ہیں کہ وہ بایوسگنیچرز (biosignatures) یعنی آکسیجن، میتھین یا کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسے کیمیائی نشانات دریافت کر سکیں گے جو حیاتیاتی سرگرمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اگر ایسے نشانات مل گئے تو یہ تاریخ کی سب سے بڑی سائنسی کامیابیوں میں شمار ہوگا: زمین سے باہر زندگی کے وجود کا ثبوت۔
مستقبل کی جھلک
آنے والا عشرہ نہایت اہم ہوگا۔ جدید دوربینوں کی مدد سے ماہرین فلکیات یہ کر سکیں گے:
سیارے کے ماحول اور موسم کی پیمائش۔
پانی کے بخارات کے آثار تلاش کرنا۔
کیمیائی عدم توازن کا مطالعہ جو حیاتیاتی عمل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔
GJ 251 c کی دریافت صرف ایک اور سیارے کی فہرست میں اضافہ نہیں ہے، بلکہ یہ انسانیت کی اس قدیم جستجو کا مرکزی ہدف ہے کہ: کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں؟
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
