نیشنل
100سے زائد خواتین ہوس کا نشانہ، ملزم کے دل دہلانے والے انکشافات
EditorStaff Reporter
Nov 25, 2025 · 4:06 PM

خواتین کو کیسے بلیک میل کرتا تھا؟
کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کی عیدگاہ پولیس نے ایک اہم کارروائی کے دوران خواتین کے موبائل فون ہیک کرنے والے ملزم سمیر عرف پی کے کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد وفاقی حساس ادارے، سی ٹی ڈی اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے افسران بھی تفتیشی عمل میں شامل ہوگئے ہیں۔ پولیس نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مار کر لیپ ٹاپ اور دیگر آلات بھی برآمد کیے ہیں جن کی فرانزک جانچ جاری ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم سمیر گلستان جوہر رابعہ سٹی کا رہائشی اور غیر شادی شدہ ہے۔ وہ صرف ساتویں جماعت پاس اور بیروزگار ہے، تاہم ایک آن لائن گروپ کے ذریعے اس نے ہیکنگ کے طریقے سیکھے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم نے لاہور کے ایک شہری سے پانچ ہزار روپے میں ایسے لنکس خریدے جن کے ذریعے موبائل فون اور سوشل میڈیا آئی ڈیز ہیک کی جاسکتی تھیں۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خواتین کو یہ لنکس بھیجتا اور جب وہ ان پر کلک کرتیں تو ان کے موبائل فون اور گوگل اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرلیتا۔ اس کے بعد وہ متاثرہ خواتین کا مکمل ڈیٹا اپنے قبضے میں لے لیتا اور ذاتی معلومات کے ذریعے انہیں بلیک میل کرتا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اب تک سو سے زائد خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے جبکہ اس کے موبائل فون سے 450 سے زائد نازیبا ویڈیوز بھی برآمد ہوئی ہیں۔
ایس ایچ او عیدگاہ حفیظ اعوان کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا ہے کہ وہ خواتین کی نازیبا ویڈیوز اپنی ذاتی تسکین کے لیے محفوظ رکھتا تھا۔ مزید انکشافات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم خواتین کو آن لائن کاروبار یا مختلف ایپلیکیشنز کے ذریعے پیسے کمانے کا جھانسہ دیتا، اور جب ان کا اعتماد حاصل کرلیتا تو ان کے موبائل فون ہیک کرکے ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کرتا۔
ملزم کی گرفتاری رنچھوڑ لائن سے تعلق رکھنے والی ایک بہادر لڑکی کی مدد سے عمل میں آئی۔ لڑکی نے اپنے اہل خانہ کو ملزم کے حوالے سے آگاہ کیا اور پولیس کو اطلاع دی۔ بعد ازاں اس نے ملزم کو ملاقات کے لیے بلایا جہاں پولیس نے شواہد کے ساتھ اسے گرفتار کرلیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم دورانِ تفتیش بار بار اپنا بیان بدلتا رہا۔ ابتدا میں اس نے خود کو ایف اے پاس بتایا لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ صرف ساتویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہے۔ اس کے لیپ ٹاپ اور موبائل فونز سے برآمد ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم یہ بھی جانچ رہی ہے کہ آیا ملزم کا برآمد شدہ ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کیا گیا یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس کیس کو خواتین کے تحفظ کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ملزم کے خلاف مزید شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں تاکہ اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جاسکے۔
یہ گرفتاری نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر میں خواتین کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔ پولیس اور حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی نے ایک ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جو سادہ لوح خواتین کو نشانہ بنا رہا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات کے بعد اس کیس کے کئی پہلو سامنے آئیں گے جو سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات کو اجاگر کریں گے۔
ریمارک نیوز کی اپ ڈیٹس واٹس ایپ پر حاصل کریںچینل فالو کرنے کے لیے کلک کریں
ADVERTISEMENT
