وفاق کی KPمیں گورنر راج لگانے کی دھمکیاں، گورنر راج کیا ہے؟

ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں: سہیل آفریدی
وفاقی حکومت کی جانب سے متعدد مرتبہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں لیکن اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ معاملا اب تک بیانات کی حد تک محدود ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج مارشل لا کی شکل نہیں، یہ آئینی عمل ہے، پی ٹی آئی کا اسمبلی چھوڑ کر جانے کا فیصلہ غلط تھا، اگر سیاسی فیصلے لیتے، ایوان کے اندر رہتے تو شاید معاملات یہاں تک نہ جاتے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب افواہیں ہیں، صوبہ گورنر راج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ وفاقی حکومت خیبرپختوانخوا میں گورنر راج کے نفاذ کیلئے کتنی سنجیدہ ہے، لیکن اس صورتحال میں لوگ یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ گورنر راج کیا ہوتا ہے اور کن حالات میں نافذ کیا جاتا ہے۔
گورنر راج کیا ہے؟
گورنر راج دراصل کسی صوبے کا نظام حکومت براہ راست وفاقی حکومت کے سپرد کرنے کا نام ہے۔ یاد رہے کہ صوبائی گورنر وفاقی حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں جنہیں وزیراعظم کی ہدایت پر صدر مملکت براہ راست تعینات کرتا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 32، 33 اور 34 میں گورنر راج کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے۔ گورنر راج کے دوران بنیادی انسانی حقوق بھی معطل کر دیے جاتے ہیں اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات قومی اسمبلی اور سینیٹ کو تفویض کردیے جاتے ہیں۔
کسی صوبے میں ایمرجنسی کی صورت میں گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے مگر اٹھارہویں ترمیم کے تحت گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی اسمبلی کی منظوری سے مشروط کردیا گیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت کے لیے آسان نہیں کہ کسی صوبے میں مخالف جماعت کی حکومت کا اثر ختم کرنے کے لیے گورنر راج نافذ کرے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو چیلنج دیاکہ اگر ہمت ہے تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگا کر دکھائیں، ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پہلے ہی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا راج ہے لہذا کسی اور راج کی ضرورت نہیں، اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائیں۔
آئین کی شق 232 کے مطابق اگر ملک کی سلامتی اگر جنگ یا کسی اندرونی اور بیرونی خدشے کے پیش نظر خطرے میں ہو اور اس کا سامنا صوبائی حکومت نہ کرسکتی ہو تو صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج لگا سکتے ہیں۔
تاہم اس کی شرط یہ ہے کہ متعلقہ اسمبلی اس کی سادہ اکثریت سے قرارداد کے ذریعے منظوری دے۔ اگر متعلقہ اسمبلی سے منظوری نہ ملے تو پھر دس دن کے اندر اس کی قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔
ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد صدر کو بھیجی جائے گی۔ اگر صدر خود ہنگامی حالت نافذ کرتا ہے تو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے توثیق کے لیے پیش کرنے کا پابند ہوگا۔
پیپلزپارٹی نے پنجاب میں گورنر راج لگایا تھا
25 فروری 2009 کو اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 237 کے تحت صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کی حکومت کے خلاف دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کیا تھا۔
اس کے بعد مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی تاہم مسلم لیگ ن کے لانگ مارچ اور ججز کی بحالی کے بعد گورنر راج ختم کردیا گیا تھا۔
