امریکا نے مزید 20ممالک پر سفری پابندیاں عائد کریں، کون کون سے ممالک شامل؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے امریکا میں داخلے پر پابندی والے ممالک کی تعداد 19 سے بڑھا کر 39 کر دی۔ یہ فیصلہ وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا اور یہ یکم جنوری 2026 سے نافذ ہوگا۔
5 ممالک کے شہریوں پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے، جن میں جنوبی سوڈان اور شام شامل ہیں۔ 15مالک کے شہریوں پر جزوی پابندیاں لگائی گئی ہیں، جن میں نائیجیریا بھی شامل ہے۔
لاوس اور سیرالیون پر پہلے جزوی پابندی تھی، اب مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ماہ ایک افغان نژاد شخص نے واشنگٹن ڈی سی میں دو نیشنل گارڈ فوجیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک سے آنے والی امیگریشن درخواستیں روک دیں۔ افغان شہریوں کی پناہ گزین درخواستیں معطل کر دیں اور امیگریشن سے متعلق تمام درخواستیں روک دیں۔
جون 2025 میں امریکی محکمہ خارجہ نے 36 ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ نئے معیار پر پورا نہ اترے تو ان پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔ ان میں سے 19 ممالک پر اب نئی پابندیاں لگ گئی ہیں، جن میں انگولا، بینن، برکینا فاسو، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، نائیجیریا، سینیگال، جنوبی سوڈان، شام، تنزانیہ، زیمبیا، زمبابوے اور دیگر شامل ہیں۔
اگست میں ٹرمپ انتظامیہ نے ملاوی اور زیمبیا کے شہریوں کو امریکا جانے کے لیے 15 ہزار ڈالر تک کا ڈپازٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی نہ رکیں۔ اب ان دونوں ممالک پر جزوی پابندی لگا دی گئی ہے۔
مجموعی طور پر 20 نئے ممالک پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، جن میں سے 16 افریقی ممالک ہیں۔ تمام 39 ممالک غیر سفید فام اکثریت رکھتے ہیں اور تقریباً نصف ممالک مسلم اکثریتی ہیں۔
