ایران میں پُرتشدد مظاہرے، کئی شہروں میں توڑ پھوڑ، جھڑپیں، ہلاکتیں 200سے تجاوز کرگئیں

’ایرانیوں کے خون کے پیچھے امریکا کے ہاتھ ہیں‘
ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور مختلف شہروں میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں۔ امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف تہران کے چھ اسپتالوں میں 217 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں زیادہ تر گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ تاہم ایرانی حکام نے اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی شہروں میں توڑ پھوڑ کی اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹس کے مطابق 26 بینک، 25 مساجد، 2 اسپتال اور 48 فائر ٹرک تباہ کیے گئے، جبکہ پولیس اسٹیشنز اور سرکاری عمارتوں پر بھی حملے ہوئے۔
مظاہرین نے ایمبولینسوں، بسوں اور شہریوں کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ سکیورٹی اداروں نے تقریباً ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ملک میں انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین کو "فسادی عناصر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر غیر ملکی قوتوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے امریکا پر الزام لگایا کہ ایرانیوں کے خون کے پیچھے اس کے ہاتھ ہیں اور واضح کیا کہ ایران کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ خامنہ ای نے ایرانی عوام سے اتحاد قائم رکھنے کی اپیل کی اور امریکی صدر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ عالمی سطح پر مداخلت کو روکے اور ریاستی خودمختاری کا تحفظ کرے۔ وزارتِ خارجہ نے امریکی بیانات کو دھوکا دہی اور داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے احتجاج کو تشدد کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے اپنی تاریخ میں بارہا سازشوں کا مقابلہ کیا ہے اور ہر بار سرخرو ہوا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایرانی عوام کی اکثریت ریاست اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی تہذیب و قیادت کے ساتھ ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔
