’’لوگ سمجھتے نہیں،مگر مشرقِ وسطیٰ میں امن موجود ہے۔ٹرمپ

غزہ امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے‘ کا دعویٰ
واشنگٹن:غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر فریقین کے اتفاق کے باوجود عمل درآمد بہت سست ہے، لیکن اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے غزہ امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ جلد شروع ہونے والا ہے اور سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کے حق میں قرارداد منظور کی ہے، جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ ٹرمپ کا امن منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے پر بھی بہت ہی سست رفتاری سے کام ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی نے جب ٹرمپ سے پوچھا کہ دوسرے مرحلے کا آغاز کب ہوگا، تو انہوں نے واضح جواب دینے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ ’’معاملات اچھے چل رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے غزہ میں اسرائیلی اہلکاروں پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بم پھٹنے سے کچھ لوگ شدید زخمی ہوئے یا ممکنہ طور پر ہلاک بھی ہوئے، لیکن اس کے باوجود صورتحال قابو میں ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’’لوگ سمجھتے نہیں، مگر مشرقِ وسطیٰ میں امن موجود ہے۔‘‘
یاد رہے کہ 9 اکتوبر کو اسرائیل سمیت دیگر فریقین نے غزہ امن منصوبے پر دستخط کیے تھے اور پہلا مرحلہ شروع کیا گیا تھا۔
دوسرے مرحلے میں غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور حماس کے بعد ایک نیا انتظامی بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ ہونا ہے، لیکن یہ دونوں معاملات اب تک حل نہیں ہو سکے۔
