پاکستانی خاتون کے ساتھ ملاقات کے دوران ظہران ممدانی آبدیدہ کیوں ہوگئے؟

نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی شہریوں سے ملاقات کے دوران اُس وقت جذباتی ہو گئے جب ایک پاکستانی خاتون کی سادہ مگر پُرخلوص گفتگو نے ماحول کو متاثر کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق میئر منتخب ہونے کے بعد ظہران ممدانی نے نیویارک کے شہریوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے اور اب تک 142 افراد سے ملاقات کی،ان ملاقاتوں میں شہریوں نے شہر سے متعلق اپنے مسائل اور تجاویز پیش کیں، جن پر میئر نے توجہ دینے اور حل کی یقین دہانی کرائی۔
اسی نشست کے دوران ایک پاکستانی خاتون بھی شریک ہوئیں، جنہوں نے گفتگو کا آغاز یہ بتا کر کیا کہ ان کی انگریزی زیادہ مضبوط نہیں، اس لیے وہ کچھ باتیں لکھ کر لائی ہیں۔
خاتون نے اپنا نام ثمینہ بتایا اور مسکراتے ہوئے میئر سے سوال کیا کہ کیا وہ اردو بول سکتے ہیں؟ اس پر ظہران ممدانی نے خوش دلی سے جواب دیا کہ وہ اردو پڑھ تو نہیں سکتے، مگر بول سکتے ہیں۔ جب میئر نے پوچھا کہ ان کا تعلق پاکستان کے کس شہر سے ہے تو خاتون نے بتایا کہ وہ لاہور سے ہیں، یہ سن کر ظہران ممدانی نے کہا کہ لاہور ایک نہایت خوبصورت شہر ہے اور وہ خود بھی ایک بار وہاں جا چکے ہیں۔
پاکستانی خاتون نے ظہران ممدانی کو میئر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا تقسیم کا شکار ہے، انہوں نے لوگوں کے دلوں میں نرمی اور امید پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیویارک کی عمارتیں تو پہلے بھی خوبصورت تھیں، مگر آپ نے آ کر لوگوں کے دل بدل دیے ہیں۔
خاتون نے مزید کہا کہ آپ کی آنکھوں میں سچائی جھلکتی ہے اور یہ سچ کسی سے چھپ نہیں سکتا، ان جذباتی الفاظ پر محفل خاموش ہو گئی اور ظہران ممدانی بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
