ڈینمارک میں ایک ماں سے نوزائیدہ بچہ کیوں چھین لیا گیا؟، پیرنٹنگ ٹیسٹ کیا ہے؟

ماں سے کہاں غلطی ہوئی؟
کیارا Greenland کی ایک نوجوان خاتون ہے جو چند سال پہلے ڈینمارک منتقل ہوئی تھیں۔ وہ اپنے پہلے بچے کی ماں بننے والی تھیں اور ہر ماں کی طرح خواب دیکھ رہی تھیں کہ وہ اپنے بچے کو گود میں لے گی، اسے دودھ پلائے گی اور محبت سے پالے گی۔
لیکن کیارا کو کیا پتہ تھا ان پر قیامت ٹوٹنے والی ہے، کیونکہ کیارا نے ہسپتال میں جیسے ہی بچے کو جنم دیا، اس سے صرف ایک گھنٹے بعد بچہ چھین لیا گیا، کیارا ہکا بکا رہ گئی۔ ڈینش سوشل سروسز کی جانب سے ماں کو کہا گیا کہ آپ ابھی اپنے بچے کی پرورش کے قابل نہیں ہیں۔
کیارا رو رو کر کہتی رہی کہ وہ اپنے بچے کو رکھنا چاہتی ہے، وہ کوئی نشہ نہیں کرتی، کوئی مجرم نہیں، کوئی خطرہ نہیں۔ لیکن ماں کی ایک نہیں سنی گئی، لیکن آخر کیارا سے ان کا نوزائیدہ بچہ کیوں چھین لیا گیا؟ وجہ تھی ’پیرنٹنگ ٹیسٹ‘
پیرنٹنگ ٹیسٹ کیا ہے؟
ڈینمارک میں ایک ٹیسٹ ہوتا ہے جسے Parenting Competence Test کہا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ صرف ان والدین پر کیا جاتا ہے جن کے بارے میں سوشل ورکرز کو کوئی شک ہو۔ کیارا سے بھی یہی ٹیسٹ لیا گیا تھا۔ اس ٹیسٹ میں والدین کا رویہ دیکھا جاتا ہے، ان کے بولنے، سمجھنے اور بچے سے رابطہ بنانے کی صلاحیت دیکھی جاتی ہے، ذہنی اور سماجی حالات پرکھے جاتے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ ٹیسٹ ڈینش یا مغربی معیار کے مطابق بنے ہوئے تھے، قابلِ تنقید بھی تھے اور گرین لینڈ کے لوگوں کی ثقافت مختلف تھی۔
کیارا کو ان ٹیسٹس میں کچھ باتیں سمجھنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا، جسے ان کی ناکافی صلاحیت قرار دے دیا گیا۔ اس غلط فہمی کے نتیجے میں کیارا کا بچہ اس سے چھین لیا گیا، جس پر ماں کا دل ٹوٹ گیا۔
کیارا نے کہا کہ میں نے اسے صرف ایک بار دیکھا تھا، میں نے ابھی اس کے گال کو چھوا بھی نہیں تھا کہ وہ لے گئے۔ میں ماں تھی مگر مجھے ماں بننے نہیں دیا گیا۔
یہ سن کر کیارا کے خاندان اور گرین لینڈ کے لوگوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا، لوگوں نے احتجاج کیا، میڈیا میں خبر آئی اور پورا ملک اس پر بات کرنے لگا۔
دباؤ بڑھا اور بالآخر قانون بدل دیا گیا، کیارا کے واقعے کے بعد ڈینش حکومت کو تسلیم کرنا پڑا کہ پیرنٹنگ ٹیسٹ غلط اور غیر منصفانہ تھے، ڈینمارک میں گرین لینڈ کے شہریوں پر یہ پیرنٹنگ ٹیسٹ استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی اور ایک نئی ٹیم بنائی گئی جو ثقافت اور زبان کو سمجھ کر والدین کا جائزہ لے گی۔
یہ سارا بدلاؤ کیارا جیسے والدین کی آواز کے بعد آیا، لیکن ان کا بچہ تاحال ان کے حوالے نہیں کیا گیا وہ آج بھی عدالت میں اپنے بچے کو واپس لانے کے لیے لڑ رہی ہے۔
کیارا کی کہانی صرف ایک ماں کی نہیں، ایک نظام کی خامی کی کہانی ہے۔ ایک غلط ٹیسٹ، ایک غلط فیصلہ اور ایک ماں کو اس کے جگر کے ٹکڑے سے دور کردیا گیا۔ کیارا کے آنسو آج بھی دنیا کو بتا رہے ہیں ’ماں بننے کے لیے کاغذ نہیں، دل اور پیار چاہیے ہوتا ہے۔‘‘
