کبوتروں کے دماغ میں چپ لگا کر انہیں کنٹرول کرنے کا تجربہ

کیا یہ انسانوں کے لیے ممکن ہے
کبوتروں" کا تجربہ
ماسکو — روسی نیوروٹیکنالوجی کمپنی Neiry نے ایک غیر معمولی اور متنازعہ تجربہ کرتے ہوئے کبوتروں کو دماغی امپلانٹس کے ذریعے کنٹرول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس منصوبے کو "بایو ڈرونز" کہا جا رہا ہے، جس کا مقصد قدرتی پرندوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر نگرانی اور دفاعی حکمتِ عملی میں نئی راہیں کھولنا ہے۔
منصوبے کی تفصیل
امپلانٹس اور کنٹرول: کبوتروں کے دماغ میں باریک الیکٹروڈز نصب کیے گئے ہیں جو ایک چھوٹے سولر پاورڈ ’’بیک پیک‘‘ سے جڑے ہیں۔ یہ بیک پیک دماغی سگنلز کو کنٹرول کرتا اور پرواز کی سمت بدلنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
پہلا تجربہ: کمپنی کے مطابق کبوتروں کے ایک جھنڈ نے لیبارٹری سے اڑان بھر کر واپس آنے کا کامیاب مظاہرہ کیا۔ کچھ کبوتروں کو ہزاروں کلومیٹر دور بھیجا گیا ہے تاکہ ان کی نیویگیشن اور کنٹرول کی صلاحیت کو جانچا جا سکے۔
مقصد: اس ٹیکنالوجی کو covert surveillance کے لیے استعمال کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ کبوتروں کی خاموش اور قدرتی پرواز انہیں روایتی ڈرونز سے زیادہ پوشیدہ بناتی ہے۔
اخلاقی اور سکیورٹی خدشات
جانوروں کے حقوق: ناقدین کا کہنا ہے کہ کبوتروں کے دماغ میں امپلانٹس لگانا جانوروں کے استحصال کے مترادف ہے اور اس سے ان کی فطری زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
پرائیویسی اور نگرانی: اگر یہ ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہوئی تو شہری آزادیوں اور پرائیویسی کے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
سائنس بمقابلہ اخلاقیات: ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت بایو ٹیکنالوجی میں ایک سنگِ میل ہے، لیکن اس کے اخلاقی پہلو عالمی سطح پر شدید بحث کا باعث ہیں۔
عالمی ردِعمل
کچھ ماہرین اسے ’’فوجی اور انٹیلی جنس‘‘ کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دے رہے ہیں۔
انسانی حقوق اور جانوروں کے تحفظ کی تنظیمیں اس پر شدید تنقید کر رہی ہیں اور اسے خطرناک رجحان قرار دے رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ موضوع تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں لوگ اسے مستقبل کی جاسوسی کا آغاز یا جانوروں کے ساتھ ظلم، دونوں طرح سے دیکھ رہے ہیں۔
